یوپی بی جے پی میں شگاف، اسمبلی اور پارلیمنٹ کے ارکنان گھمسان، پارٹی دو دھڑوں میں تقسیم

لکھنؤ: اتر پردیش بی جے پی میں ان دنوں سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے اور پارٹی کے کئی لیڈارن دست و گریباں نظر آ رہے ہیں۔ پارٹی نے اترپردیش کی گورکھپور شہر نشست سے بی جے پی کے ایم ایل اے ڈاکٹر رادھا موہن داس اگروال کو وضاحتی نوٹس جاری کیا ہے۔ جبکہ رکن پارلیمنٹ روی کشن نے عکن اسمبلی سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

روی کشن نے کہا، ’’’اگر رکن اسمبلی ہونے پر آپ ناراض ہو جاتے ہیں تو استعفیٰ دے دیجئے۔” بی جے پی کے ایم ایل اے ڈاکٹر اگروال نے حال ہی میں ٹوئٹ کر کے یوپی میں نظم نسق کی ابتر صورت حال پر سوال اٹھائے تھے اور کہا تھا انہیں رکن اسمبلی کی حیثیت سے خود پر شرم آتی ہے۔ اس پر پارٹی کی طرف سے ایک ہفتہ کے اندر وضاحت طلب کی گئی ہے۔

گورکھپور شہر کے ایم ایل اے ڈاکٹر اگروال کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی ’روایات‘ اور اصولوں کے خلاف برتاؤ کرنے پر وضاحتی نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ پارٹی کے ریاستی صدر سواتنترودیو سنگھ کی ہدایت پر ریاستی جنرل سکریٹری جے پی ایس راٹھور نے ڈاکٹر اگروال کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا، "پارٹی کے طرز عمل کے خلاف سوشل میڈیا پر پوسٹ ڈالی جا رہی ہے جو حکومت اور تنظیم کی شبیہ کو داغدار بناتی ہے۔ یہ حرکت نظم و ضبط کے زمرے میں آتی ہے۔ مذکورہ بالا کے تناظر میں آپ ایک ہفتہ کے اندر پارٹی دفتر کو اپنی وضاحت بھیجنے کی زحمت کریں۔‘‘

واضح رہے کہ گورکھپور میں پچھلے کچھ دنوں سے اسسٹنٹ انجینئر کے تبادلے کا معاملہ گرم ہے۔ اس سے بی جے پی کے ایم ایل اے ڈاکٹر اگروال اور رکن پارلیمنٹ روی کشن آمنے سامنے ہیں۔ اس معاملے میں جہاں چار اراکین، پارلیمنٹ ممبر پارلیمنٹ کے حق میں آ گئے، وہیں اس نظریاتی لڑائی میں بانس گاؤن کے رکن پارلیمنٹ کملیش پاسوان شہر کے ایم ایل اے کی حمایت میں کود پڑے ہیں۔ اسی کے ساتھ ہی شہر کے ایم ایل اے ڈاکٹر اگروال نے بھی رکن پارلیمنٹ کے اس پیغام پر اپنا ردعمل دیا ہے۔ شہر کے رکن اسمبلی نے کہا ہے کہ "آپ کا بہت بہت شکریہ۔ انصاف اور احترام کے لئے کوئی تو موجود ہے۔”

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading