ناندیڑ (ورق تازہ نیوز): مہنگائی کے بڑھتے ہوئے بوجھ کے درمیان مہاراشٹر کے نندوربار ضلع میں پٹرول اور ڈیزل کے بعد اب سی این جی کی قیمتوں میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے۔ فی کلو 100 روپے میں دستیاب سی این جی کی قیمت اچانک بڑھ کر 105 روپے ہوگئی ہے، جس کے باعث گاڑی مالکان میں شدید ناراضگی پائی جارہی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ نندوربار سے متصل گجرات کے اضلاع میں سی این جی تقریباً 10 روپے فی کلو سستا دستیاب ہونے کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔ دو پڑوسی ریاستوں کے سرحدی اضلاع میں قیمتوں کے اس فرق نے گاڑی مالکان کے درمیان کئی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔
سی این جی مہنگا ہونے سے گاڑی مالکان کا بجٹ متاثر
ایک جانب پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پہلے ہی گاڑی مالکان پریشان ہیں، وہیں اب سی این جی کی قیمت بڑھنے سے ان کے اخراجات میں مزید اضافہ ہوگا۔ سی این جی پر چلنے والی گاڑیوں کے ایندھن کے اخراجات بڑھنے سے نقل و حمل بھی مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے نتیجے میں آٹو رکشہ، ٹیکسی اور دیگر مسافر بردار گاڑیوں کے کرایوں میں اضافے کی نوبت آسکتی ہے، جس کا براہ راست اثر عام شہریوں کی جیب پر پڑے گا۔
گاڑی مالکان پہلے ہی مختلف ٹیکسوں اور روزمرہ اخراجات کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ ایسے میں سی این جی کی قیمت میں 5 روپے فی کلو اضافے نے ان کے مالی حساب کتاب کو مزید بگاڑ دیا ہے۔ اگر مسافر گاڑیوں کے کرایوں میں اضافہ ہوتا ہے تو عام مسافروں کو بھی اپنے روزمرہ سفر کے لیے زیادہ رقم خرچ کرنی پڑسکتی ہے۔
پڑوسی گجرات میں سی این جی 10 روپے سستا، نندوربار میں مہنگا کیوں؟
نندوربار ضلع کی سرحد گجرات کے تاپی، نرمدا اور سورت علاقوں سے ملتی ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق، گجرات کے پڑوسی علاقوں میں سی این جی کی قیمت نندوربار کے مقابلے میں تقریباً 10 روپے فی کلو کم ہے۔ دونوں ریاستوں کے درمیان قیمتوں کے اس فرق کی ایک اہم وجہ ٹیکس کی مختلف شرحیں بتائی جارہی ہیں۔
تاہم، گاڑی مالکان کا سوال ہے کہ جب پڑوسی گجرات میں سی این جی کم قیمت پر دستیاب ہے تو نندوربار میں اس کی قیمت زیادہ کیوں ہے؟ مقامی گاڑی مالکان کی جانب سے سی این جی کی قیمتوں میں کمی کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے تاکہ انہیں مہنگائی سے کچھ راحت مل سکے۔
ایندھن کی عالمی قیمتوں میں اضافے کا اثر
گزشتہ چند دنوں کے دوران خام ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مختلف اقسام کے ایندھن کی قیمتوں پر اثر پڑنے کی بات کہی جارہی ہے۔ خبر میں سی این جی کی قیمتوں میں اضافے کو ایران اور امریکہ کے درمیان جنگی صورتحال سے بھی جوڑا گیا ہے۔ تاہم، اس اضافے میں عالمی منڈی کے حالات، مقامی ٹیکس اور دیگر عوامل کا کتنا حصہ ہے، اس کی واضح تفصیلات سامنے آنا ضروری ہے۔
مجموعی طور پر نندوربار ضلع میں سی این جی کی قیمت 100 روپے سے بڑھ کر 105 روپے فی کلو ہونے سے گاڑی مالکان کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ اگر آنے والے دنوں میں ایندھن کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو اس کا اثر مسافر کرایوں اور عام شہریوں کے روزمرہ اخراجات پر بھی پڑسکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ متعلقہ حکام قیمتوں کے فرق اور گاڑی مالکان کے مطالبات پر کیا قدم اٹھاتے ہیں۔