مظفر نگر:(ایجنسیز) اترپردیش کے مظفرنگرمیں ایک حیران کرنے والا معاملہ سامنے ٓ ا ٓیا ہے۔ یہاں ایک قبرستان سے19 سالہ ایک نوجوان کی لاش کوقبرسے باہرنکالا گیا۔ لاش کو پہلے مسلم سمجھ کردفن کیا گیا تھا۔ اب اس کی شناخت ایک ہندو شخص کے طورپرہوئی ہے۔ اس وجہ سے لاش باہر نکالی گئی، اب اس کی آخری رسوم ادائیگی کی جائے گی۔ پولیس نےہفتہ کو یہ اطلاع دی۔سب ڈویڑنل مجسٹریٹ سرجیت کمارنےبتایا کہ شخص کا قتل 17 جون کواس کےتین دوستوں نےکردیا تھا اوراس کی لاش جمنا میں پھینک دیا تھا۔ اس کےایک دن بعد اس کی لاش برآمد ہوئی۔ اس کے بعد غلطی سےاس کی شناخت مسلم شخص کے طورپرہوگئی اوراسے ایک قبرستان میں دفن کیا گیا۔پولیس نے بتایا کہ شاملی ضلع مجسٹریٹ کے حکم پرشخص کی شناخت ساگرکے طورپرہونے اورہندوپہچان ہونےکے بعد اس کے بعد اس کی لاش کوقبرسے باہرنکالا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے شخص کی اصلی شناخت کا انکشاف مجرموں کےاپنے جرم کا اعتراف کئے جانےکے بعد ہوا۔ ساگرہریانہ کے پانی پت کا رہنے والا تھا اوراس کےگھروالوں نے17 جون کواس کےلاپتہ ہونےکی شکایت درج کرائی تھی۔ پولیس نے بتایا کہ لاش کوفیملی کوسونپ دیا گیا ہے۔