ہندوستان میں ریل بوگیوں کو اور پاکستان میں ہوٹلوں کو بنایا قرنطینہ کے مراکز

ہندوستان اور پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں مستقل اضافہ ہورہا ہے اور دونوں ممالک میں طبی سہولیات آبادی کے حساب سے محدود ہیں اس لئے اب دونوں ممالک اپنے اپنے ملکوں میں قرنطینہ کےعارضی مراکز بنانے کے لئے نئی جگہ کی تلاش میں ہیں۔ ایک خبر کے مطابو ہندوستانی حکومت نے ریلوے کی ان بوگیوں کو جو اس وقت سروس میں نہیں ہیں، آئسولیشن وارڈز میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

دوسری جانب پاکستان نے صحت عامہ کی دیکھ بھال کے ابتر نظام میں فوری بہتری لانے کے اقدام کے طور پر سینکڑوں ہوٹلوں کو قرنطینہ کے عارضی مراکز میں تبدیل کر دیا ہے، تاکہ کرونا وائرس کی وبا سے نمٹنے میں مدد دی جا سکے۔

ہندوستانی ریلوے کے ایک ترجمان نے ہفتے کے روز اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سردست ایک مسافر کوچ کو قرنطینہ وارڈ میں تبدیل کیا گیا ہے۔ اگر اس کی منظوری مل گئی تو ریلوے کا ہر زون ہر ہفتے 10 کوچز کو آئسولیشن وارڈ میں تبدیل کرے گا۔ بھارت میں ریلوے کی 16 زون ہیں۔

پاکستان میں ناقدین نے بتایا ہے کہ یہ فوری اقدام غیر معمولی نوعیت کا ہے، جب کہ ملک کے وسائل محدود ہونے کے باعث اضافی اخراجات برداشت کرنے کی گنجائش کم ہے۔پاکستان کے قریبی اتحادی، چین نے درکار اہم طبی رسد اور عملہ فراہم کیا ہے، تاکہ وبا کے اثرات میں کمی لانے میں مدد دی جا سکے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading