ہم اپنے دماغ کو صحت مند اور تیز کیسے بنا سکتے ہیں؟

تیزی سے بدلتی دنیا، مسلسل ترقی کرتی ٹیکنالوجی اور اس کے باعث ہماری روزمرہ کی زندگی میں تبدیلیاں۔ہمارا دماغ ان تمام چیزوں کے لیے نہیں بنایا گیا تھا جو آج ہم کرتے ہیں۔ پھر بھی، ہم اس جدید دنیا کے ساتھ اچھی طرح ڈھل چکے ہیں اور تبدیلیوں کے مطابق خود کو مسلسل بدل رہے ہیں۔

یہ سب ہمارے دماغ کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ دماغ ہمارے جسم کا ایسا عضو جو خود کو ڈھالنے، سکھانے اور تیار کرنے کی زبردست صلاحیت رکھتا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنے اس حیرت انگیز عضو کو صحت مند کیسے رکھ سکتے ہیں؟ کیا کوئی ایسا طریقہ ہے جس کے ذریعے ہم دماغ کی صلاحیت کو بڑھا سکتے ہیں اور اسے تیز کر سکتے ہیں؟

بی بی سی کی ملیسا ہوگن بام نے ایک نئی تحقیق کا مطالعہ کیا اور ان سوالات کے جواب تلاش کرنے کے لیے کچھ ماہرین سے بات کی۔انگلینڈ کی یونیورسٹی آف سرے میں کلینیکل سائیکالوجی کے پروفیسر تھورسٹین بارن ہوفر نے بی بی سی کو بتایا کہ ہم اپنے دماغ کی صلاحیتوں کو کئی طریقوں سے بڑھا سکتے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’کچھ ایسے عمل ہیں جو تناؤ کو کم کرتے ہیں اور صرف چند ہفتوں میں ’نیوروپلاسٹیسٹی‘ کو فروغ دیتے ہیں۔ نیوروپلاسٹیسٹی کو بڑھا کر، ڈیمنشیا جیسی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے اور یہاں تک کہ نفسیاتی صدمے کی وجہ سے دماغ کو پہنچنے والے نقصان کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔‘

مگر یہ نیوروپلاسٹیسیٹی کیا ہے؟

لکھنؤ میں ماہر نفسیات راجیش پانڈے نے بی بی سی کو بتایا کہ نیورو پلاسٹیسیٹی دراصل ہمارے دماغ میں موجود نیورونز، جنھیں عصبی خلیے بھی کہا جاتا ہے، میں بننے اور تبدیل ہونے والے رابطے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’ہمارا دماغ ایک وائرنگ سسٹم جیسا ہے۔ دماغ میں اربوں نیوران ہوتے ہیں۔ ہمارے حسی اعضا جیسا کہ آنکھ، کان، ناک، منہ اور جلد بیرونی معلومات کو دماغ تک پہنچاتے ہیں۔ ’یہ معلومات نیوران کے درمیان روابط بنا کر دماغ میں محفوظ کی جاتی ہیں۔‘

راجیش کہتے ہیں کہ ’جب ہم پیدا ہوتے ہیں تو یہ نیوران بہت کم رابطوں میں ہوتے ہیں۔ اضطراری رابطے پہلے سے موجود ہیں، جیسا کہ بچے کا ہاتھ کسی گرم چیز کے ساتھ لگنے سے اس کا اپنے ہاتھ کو فوراً سے اپنی جانب واپس کھینچنا وغیرہ۔ لیکن وہ زمین سے پکڑ کر کیڑا یا کوئی مضر رینگنے والا جانور اٹھا کر منہ میں ڈال سکتا ہے کیونکہ اس کے دماغ میں ایسے کنکشن نہیں ہوتے جو اسے یہ بتا سکیں کہ ایسا کرنا خطرناک ہے۔ مگر وقت کے ساتھ بچہ سیکھتا رہتا ہے اور اس کے دماغ میں اعصابی رابطے بنتے رہتے ہیں۔‘

راجیش پانڈے بتاتے ہیں کہ ’نئے تجربات کے ساتھ یہ رابطے بھی بدل جاتے ہیں۔ اس پورے عمل کو نیوروپلاسٹیسٹی کہتے ہیں۔ یہ سیکھنے، تجربات تخلیق کرنے اور یادوں کو ذخیرہ کرنے کا پس پردہ عمل ہے۔‘

نیوروپلاسٹیسٹی کو کیسے بڑھایا جا سکتا ہے؟

وہ بتاتے ہیں کہ بار بار ایک ہی چیز کی فکر کرنا نقصان دہ ہے کیونکہ اس سے دماغ میں کورٹیسول ہارمون کی سطح بڑھ جاتی ہے۔

یہ ہارمون دماغ کے لیے نقصان دہ ہے اور نیوروپلاسٹیسٹی کے لیے رکاوٹیں پیدا کرتا ہے۔ اس سے بچنے کا طریقہ ذہن سازی ہے۔

ذہن سازی کا سیدھا مطلب ہے اپنے ارد گرد کے ماحول، اپنے خیالات اور اپنے حسی اعضا (آنکھیں، کان، ناک، منہ، جلد) سے آگاہ ہونا۔ اس کا مطلب ہے کہ زیادہ سوچے بغیر اس پر توجہ دیں کہ آپ اس وقت کیا محسوس کر رہے ہیں۔

ماہر نفسیات راجیش پانڈے بتاتے ہیں کہ ’اگر سادہ زبان میں سمجھا جائے، تو ذہن سازی کا مطلب یہ جاننا ہے کہ دماغ میں باہر سے ہمارے حسی اعضا کے ذریعے کیا معلومات آ رہی ہیں اور دماغ کے اندر پہلے سے موجود معلومات کو کس طرح استعمال کیا جا رہا ہے۔‘

مراقبے کی مثال دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’سادہ زبان میں، یہ آپ کے حسی اعضا پر توجہ مرکوز کرنے کا عمل ہے۔ آپ کی سانس لینے پر توجہ دینا یا محسوس کرنا کہ موسم گرم ہے یا ٹھنڈا۔‘

’اس سے اعصابی رابطے بھی پیدا ہوتے ہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ اگر کوئی شخص دن میں صرف 15 منٹ تک ان حسی اعضا پر توجہ دے تو اس کا چلنا، بولنا، ہنسنا، مسکرانا، سب کچھ بدل جائے گا۔‘

اس کو جانچنے کے لیے، بی بی سی کی میلیسا ہوگن بوم نے ایک بار اپنے دماغ کا سکین کروایا، چھ ہفتوں تک مراقبہ کیا اور پھر دوبارہ سکین کروایا۔

پچھلے اور نئے سکین کا موازنہ کرنے کے بعد، پروفیسر بارن ہوفر نے کہا کہ چھ ہفتوں میں میلیسا کے دماغ میں نیوروپلاسٹیسٹی میں اضافہ ہوا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’دماغ کے دائیں حصے کا سائز کم ہو گیا ہے۔ یہ تناؤ میں کمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ ان لوگوں میں بڑھتا ہے جن کو پریشانی اور تناؤ ہوتا ہے۔ ہم نے پہلے بھی دیکھا ہے کہ ذہن سازی کی تربیت نے اس کا سائز کم کیا۔ دماغ کے پچھلے حصے میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ ’اس کا مطلب ہے کہ ذہن میں خلفشار میں کمی آئی ہے۔‘

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading