ہماری معیشت کی حالت خراب لیکن مندی پوری دنیا میں ہے، وزیر خزانہ کا اعتراف

قومی معیشت کی حالت کتنی سنگین ہوتی جا رہی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا کہ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کو ذرائع ابلاغ کے سامنے آ کر معیشت کی موجودہ حالت پر بیان دینا پڑا۔ انہوں نے جہاں یہ اعتراف کیا کہ قومی معیشت مندی کا شکار ہے وہیں انہوں نے پرائیویٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لئے کچھ نئے اعلانات بھی کئے۔

قومی معیشت کو ٹھیک ٹھاک بتانے کے لئے انہوں نے عالمی مندی کا سہارا لیا اور انہوں نے کہا عالمی ترقی کی شرح ۳۔۲ فیصد ہے جبکہ ہندوستان کی شرح ترقی بڑے ترقی یافتہ ممالک سے بہت بہتر ہے۔

نرملا سیتا رمن نے جو اعلانات کئے ہیں اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ قومی معیشت کی حالت سے پریشان ہیں اور ان کو اس کا اندازہ ہے کہ نجی سیکٹر میں سرمایہ کاری کی سخت ضرورت ہے۔ اس کے لئے انہوں نے بجٹ میں لئے گئے اپنے ہی فیصلوں کو واپس لینے کا اعلان کیا جس میں سرمایہ کاری پر لگنے والے سرچارج واپس لینے کا اعلان کیا۔

انہوں نے ایک بڑا اعلان کرتے ہوے سی ایس آر (کارپوریٹ سوشل رسپانسی بلٹی ) فنڈنگ کے معاملوں کو مجرمانہ زمرہ سے ہٹا کر سیول زمرہ میں کر دیا ہے ۔ واضح رہے سی ایس آر کے کئی معاملہ ہیں اور سی ایس آر کا ایک بڑا فنڈ سرکاری اسکیموں کے لئے سیاست دانوں نے استعمال کیا ہے اور ان سیاست دانوں میں حکمراں جماعت کے لوگ بڑی تعداد میں شامل ہیں ۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading