ناندیڑ:22 /جون۔ ( ورقِ تازہ نیوز) کنوٹ تعلقہ کے شیونی اپاراوپیٹھ میں ایک گائے کے محافظ کی موت کے بعد ایک نوجوان جس نے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر دو سماج میں تفریقہ پیدا کرنے کے لیے پوسٹ کیا تھاس معاملے میں نوجوان کوپولس نے گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیاتھا جسے فرسٹ کلاس مجسٹریٹ پی۔ ایس۔ جادھو نے دو دن کی پولیس حراست میں بھیج دیا ہے۔
19 جون کی رات کو کچھ لوگوں نے کنوٹ تعلقہ کے موضع اسلاپور سے قریب شیونی اپاراو پیٹھ کے قریب شیکھر راملو راپولی نامی نوجوان کا قتل کر دیا اور اس کے ساتھ چھ لوگوں کو زخمی کر دیا۔ اس کے بعد 21 جون کو ناندیڑ بند کاا علان ہندو تنظیموں کی جانب سے کیاگیاتھا۔جس کے بعد سوشل میڈیا کے ایک پلیٹ فارم پرنوجوان نے ایک پوسٹ ڈالی اورکہاکہ” پہلا نمبر لگا ہے دوسروں کا بھی نمبر لگے گا“
یہ پوسٹ سوشل میڈیا پرکافی وائرل ہوئی او راس بارے میں شریدھر شیو پرساد شرما کی طرف سے دی گئی شکایت کے بعد، اتوارہ پولیس نے تعزیرات ہند کی دفعہ 295 (A) کے تحت مقدمہ نمبر 185/2023 درج کیا۔ یہ پوسٹ مرزا جنید بیگ مرزا جاوید بیگ (22) ساکن ساٹھے نگر قندہار کو اتوارہ پولیس نے 21 جون کو گرفتار کیا تھا۔آج انسپکٹر آف پولیس گیانوبا دیو کتے، اسسٹنٹ انسپکٹر شیو سب سوامی اور ان کے ساتھی پولیس اہلکاروں نے مرزا جنید بیگ کو عدالت میں پیش کیا۔
حکومتی وکیل ایڈوکیٹ وجے توڈواد اور شیوساب سوامی کی طرف سے پیش کردہ دلائل کے مطابق شیکھر کے قتل کے بعد ضلع میں جو صورتحال پیدا ہوئی ہے وہ سنگین ہے۔ اس صورتحال میں مرزا جنید بیگ کی پوسٹ نے معاشرے کے طبقات میں کھلبلی مچادی ہے۔ جنید بیگ کی یہ پوسٹ کرنے میں کسی نے کوئی مدد کی؟ اس کا تحقیق لگانا ضروری ہے۔ اسلئے لیے مرزا جنید بیگ کی پولیس حراست ضروری ہے۔ دلائل سننے کے بعد جج پی. ایس۔ جادھو نے مرزا جنید بیگ کو دو دن یعنی 24 جون 2023 تک پولیس حراست میں بھیج دیا۔