گیس کی قلت بی جے پی حکومت کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ، عوام دانڈی مارچ سے تحریک لے کر احتجاج کریں: ہرش وردھن سپکال
ممبئی/تریمبکیشور: مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا ہے کہ ملک میں ایل پی جی گیس کی شدید قلت صرف خلیجی جنگ کا ہی نہیں بلکہ بی جے پی حکومت کی غلط پالیسیوں اور ناقص منصوبہ بندی کا بھی نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے کوئی واضح حکمت عملی نہیں ہے اور اس کا براہِ راست اثر عام عوام پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مہاتما گاندھی کے تاریخی دانڈی مارچ سے تحریک لے کر حکومت کے خلاف احتجاج کریں۔
تریمبکیشور میں کانگریس کے عوامی نمائندوں کی ورکشاپ کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ 1930 میں جب انگریزوں نے نمک پر ٹیکس عائد کیا تھا تو مہاتما گاندھی نے اسی دن دانڈی مارچ شروع کر کے برطانوی حکومت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی عوام کو اسی جذبے کے ساتھ حکومت کو جواب دہ بنانے کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی دنیا نے جنگی حالات کا سامنا کیا، لیکن اس وقت کی کانگریس حکومتوں نے بہتر منصوبہ بندی اور مختلف فریقوں سے مکالمے کے ذریعے ایندھن اور گیس کی قلت پیدا نہیں ہونے دی۔ ان کے مطابق موجودہ بی جے پی حکومت کے پاس نہ کوئی واضح پالیسی ہے اور نہ ہی وہ مختلف شعبوں سے مشاورت کرنے کو تیار ہے، جس کے باعث صورتحال مزید سنگین ہو رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس پر تنقید کرتے ہوئے سپکال نے کہا کہ بی جے پی لیڈران ان پر نچلی سطح کی تنقید کرتے ہیں، لیکن اس پر انہیں حیرت نہیں ہوتی کیونکہ بی جے پی کی سوچ تاریخی طور پر بہوجن طبقات کے حقوق کو نظر انداز کرنے والی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی ذہنیت کا سامنا ماضی میں چھترپتی شیواجی مہاراج کو بھی کرنا پڑا تھا۔ سپکال نے کہا کہ وہ تریمبکیشور کی مقدس سرزمین سے ایشور سے دعا کرتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ کو بہتر سوچ نصیب ہو اور انہوں نے اٹل بہاری واجپئی کے اشعار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’چھوٹے دل سے کوئی بڑا نہیں ہوتا، ٹوٹے دل سے کوئی کھڑا نہیں ہوتا‘۔
کانگریس کے ریاستی صدر نے اسمبلی عمارت میں بم کی دھمکی سے متعلق ای میل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے سے ریاست میں قانون و انتظام کی بگڑتی صورتحال کا اندازہ ہوتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر قانون ساز عمارت ہی محفوظ نہیں تو عوام کی حفاظت کیسے ممکن ہوگی۔ ان کے مطابق پولیس کا اصل کام عوام کا تحفظ کرنا ہے لیکن موجودہ حالات میں صورتحال مختلف نظر آتی ہے۔ اسی دوران کانگریس پارٹی نے ایل پی جی گیس کی قیمتوں میں اضافے اور قلت کے خلاف ریاست بھر میں احتجاج بھی کیا۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ گیس کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ فوری طور پر واپس لیا جائے اور عام صارفین کے لیے گیس سلنڈر کی بلا رکاوٹ فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
شمالی مہاراشٹر کے عوامی نمائندوں کے لیے کانگریس کی دو روزہ ورکشاپ کا آغاز
ممبئی/تریمبکیشور: مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کی جانب سے شمالی مہاراشٹر کے عوامی نمائندوں کے لیے تریمبکیشور میں دو روزہ ورکشاپ کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد پارٹی کی تنظیم کو مضبوط بنانا اور کارکنان کی قیادت سازی کو فروغ دینا ہے۔ اس ورکشاپ کا افتتاح ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے کیا۔
اس موقع پر کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن اور سینئر لیڈر بالاصاحب تھورات، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سکریٹری اور تلنگانہ کے شریک انچارج سچن ساونت، ریاستی نائب صدر (تنظیم و انتظامیہ) ایڈوکیٹ گنیش پاٹل، شرد آہر، ایڈوکیٹ سچن نائک، ریاستی جنرل سکریٹری گربچن بچھر، راجارام پانگھوانے، بریج دت، شروتی مہاترے، ناسک ضلع (شمال) کانگریس کمیٹی کے صدر بھارت ٹاکیکر، ناسک ضلع (جنوب) کے صدر رمیش کہنڈال، ناسک شہر ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر اکشے چھا جیڈ اور دیگر عہدیداران موجود تھے۔
ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ 2014 سے اچھے دن کا نعرہ دے کر اقتدار میں آنے والی حکومت نے عوام کو ترقی کے جو خواب دکھائے تھے وہ حقیقت میں پورے نہیں ہوئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت جھوٹے وعدوں کے ذریعے عوام کو گمراہ کر رہی ہے اور حکمرانی کا انداز آمرانہ ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کے تحفظ کی ذمہ داری اب کانگریس کے کارکنان پر عائد ہوتی ہے اور پارٹی کے کارکنان کو اسی عزم کے ساتھ جدوجہد جاری رکھنی چاہیے۔ انہوں نے مقامی بلدیاتی انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے سرکاری مشینری اور پیسے کا بے دریغ استعمال کیا، اس کے باوجود کانگریس کے کارکنان نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور قابلِ ذکر کامیابی حاصل کی۔
اس موقع پر سچن ساونت نے کہا کہ ملک میں اس وقت دو نظریات کے درمیان جدوجہد جاری ہے، ایک آئین پر یقین رکھنے والا نظریہ اور دوسرا منوواد پر مبنی سوچ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی سیاست آئینی اصولوں کے برعکس ہے جبکہ کانگریس کا نظریہ عوام کو حقوق اور مساوی مواقع فراہم کرنے کا ہے۔
دوپہر کے سیشن میں کانگریس کے سینئر لیڈر بالاصاحب تھورات نے ورکشاپ کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے عوام سے مسلسل رابطہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس دوران آر جے سنگرام کھوپڑے نے ’شہری سیاست‘ کے موضوع پر خطاب کیا جبکہ آر ٹی آئی کارکن ویویک ویلنگکر نے اطلاعات کے حق کے مؤثر استعمال کے بارے میں تفصیلی رہنمائی فراہم کی۔ ورکشاپ کے دوسرے دن مختلف سیشنز کے ساتھ اس کا اختتامی پروگرام منعقد کیا جائے گا۔
MPCC Urdu News 12 March 26.docx