نئی دہلی: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈنے کہا ہے کہ گیان واپی مسجد کے تعلق سے دی گئی آرکیو لوجیکل سروے آف انڈیا کی رپورٹ اس متنازعہ معاملہ میں کوئی حتمی ثبوت نہیں ہے، فریق مخالف اس کا پریس میں انکشاف کرکے نہ صرف توہین عدالت کا مرتکب ہواہے بلکہ ایسا کرکے اس نے سماج میں انتشار اور بد امنی ہی پیدا کی ہے
آج ہیاں جاری ایک ریلیز کے مطابق بور ڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے کہا کہ گیان واپی مسجد کے تعلق سے ہندو فرقہ تنظیمیں کئی سالوں سے مسلسل عوام کو گمراہ کررہی ہیں۔
اس کی تازہ مثال آرکیولوجیکل سروے آف انڈیا کی وہ رپورٹ ہے جو اس نے عدالت میں داخل کی تھی اور کورٹ ہی کے حکم پر مدعیان اورمدعاعلیہ کو فراہم کی ہے۔ یہ رپورٹ ان کے مطالعہ اور تیاری کے لئے تھی تاہم فریق مخالف نے اس کا پریس میں اجراء کرکے نہ صرف عدالت کی توہین کی ہے بلکہ ملک کے سادہ لوح عوام کو گمراہ کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔