نئی دہلی: نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مسجدوں میں جمعہ کی نماز پڑھ رہے نمازیوں پر ہوئے دہشتگردانہ حملے میں 49 نمازی شہید ہوگئے اور 40 لوگ شدید زخمی ہیں۔ جمہ کی نماز کے دوران سینٹرل کرائسٹ چرچ مسجد ال نور اور اپنگر لنوڈ میں واقع ایک مسجد میں دہشتگرد گھس آئے۔ انہوں نے وہاں لوگوں پر اندھا دھن گولی باری شروع کر دی۔
بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم بھی حادثے کے دوران نیوزی لینڈ میں موجود تھی۔ گولی باری کے وقت کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی مسجد میں داخلہ کرنے والے تھے، جو اس حملے میں بال بال بچ گئے۔ اس حملے پر الگ الگ لوگوں نے نیوزی لینڈ کے لوگوں کے تئیں اظہار تعزیت کی اور ٹویٹ کیا۔
بین الاقوامی کرکٹ کاؤنسل (آئی سی سی) نے بانگلادیش اور نیوزی لینڈ کے بیچ کرسٹ چرچ میں ہونے جا رہے تیسرے اور فائنل ٹیسٹ میچ کو ردّ کر دیا ہے۔ بھارتیہ کرکٹ کھلاڑی گوتم گمبھیر نے کرائسٹ چرچ میں ہوئے حملے کے لئے اس میڈیا کو بھی ذمہ دار مانا ہے جو سیاست کے چلتے عوام کو گمراہ کرتی ہے۔
انہوں نے مسلمانوں کو اس طرح سے سامنے رکھنے کی بات کہی جس سے لوگوں کی توجہ مبذول کی جاسکے۔
A big part of d blame for Christchurch killings should rest with us & d “Propaganda” Media. We had conveniently branded Muslims as oppressive to gain applause from d majority of d Indian gallery on social media & get TV ratings. For me secularism is the best thing about democracy
— Gautam Gambhir (@GautamGambhir) March 16, 2019
گوتم گمبھیر نے ٹویٹ کیا ہے که، ‘کرائسٹ چرچ میں ہوئی موت کی ذمہ داری کا ایک بڑا حصہ ہم پر اور ‘پروپگینڈا’ میڈیا پر ہے۔ ہم نے سوشل میڈیا اور ٹی وی ریٹنگس حاصل کرنے کے لئے مسلمانوں کو آسانی سے تشدد پسند بتایا ہے۔ میرے لئے سیکولزم جمہوریت کی سب سے اچھی بات ہے۔