گرما گرم فون کال میں جو بائیڈن کی نیتن یاہو کو سنگین نتائج کی دھمکی

امریکی جوبائیڈن انتظامیہ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی حکومت کے درمیان بظاہر اختلافات پائے جاتے ہیں۔ جوبائیڈن اپنے اتحادی نیتن یاہو کے بارے میں یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ان دونوں کے درمیان آخری فون کال بہت بری اور گرماگرم تھی۔ایک باخبر ذریعے نے اس فون کال کے حوالے سے کچھ اندر کی باتوں کا دعویٰ کیا ہے کہ جوبائیڈن جو اس وقت وائٹ ہاؤس میں بطور صدر دوبارہ آنے کے لیے کوشاں ہیں اور انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ اس ذریعے کے مطابق جو بائیڈن نے نیتن یاہو کو فون کال پر دھمکیاں بھی دی ہیں۔

واضح رہے غزہ میں چھ ماہ کے دوران کی جنگ کے نتیجے میں بہت بڑی تعداد میں فلسطینی عورتوں اور بچوں کی ہلاکتوں کے باعث ڈیموکریٹس کے حامی نوجوانوں میں بھی سخت ردعمل پیدا ہونا شروع ہو چکا ہے۔تازہ عوامی جائزوں میں یہ بات سامنے آرہی ہے کہ اسرائیل کی غزہ جنگ کے بارے میں امریکی پالیسی کے باعث صدر جو بائیڈن اپنی مقبولیت کھوتے جا رہے ہیں۔ اس لیے اس کے باوجود کہ ابھی امریکہ کے اسرائیل کے بارے میں پالیسی میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں ہے لیکن دونوں ملکوں کے درمیان ناراضگی کا تاثر بہت گہرا دکھایا جا رہا ہے۔

اس پس منظر میں ان ذرائع کا دعویٰ ہے کہ امریکہ اسرائیل کے بارے میں اپنی پالیسی کا از سر نو جائزہ لے سکتا ہے اور امداد کو غزہ میں شہری ہلاکتوں کے ساتھ منسلک کر کے مشروط بنا سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق جوبائیڈن نے یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ اگر غزہ میں شہریوں کی ہلاکتوں میں کوئی کمی نہیں ہوتی تو اسرائیل کو اسلحہ سپلائی کی پالیسی میں بھی تبدیلی ہو سکتی ہے۔ اہم بات ہے کہ امریکی صدر جوبائیڈن نے یہ دھمکی جنگ کے ساتویں مہینے میں داخل ہونے کے موقع پر دی ہے۔

جبکہ اس سے پہلے اسلحہ کی سپلائی اور ہر طرح کی فوجی اور مالی امداد اسرائیل کے نام کیے رکھی ہے۔ جس کے نتیجے میں اب تک 33137اس دوران جوبائیڈن انتظامیہ کے ایک ذمہ دار نے اس امر کی تصدیق کی کہ امریکہ کس کس طرح اس مشکل اور پچیدہ صورتحال کے باوجود غزہ کی جنگ میں اسرائیل کی حمایت کر رہا ہے۔ فلسطینی غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں قتل ہو چکے ہیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading