نئی دہلی: گجرات میں سال 2002 میں ہونے والے مسلم مخالف فسادات کے سلسلہ میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو کلین چٹ دیئے جانے کے خلاف داخل کی گئی عرضی پر سماعت کے دوران ذکیہ جعفری نے ایس آئی ٹی کی تفتیش پر سوال اٹھائے ہیں۔ ذکیہ جعفری نے سپریم کورٹ میں کہا کہ ایس آئی ٹی نے طریقہ کار پر عمل نہیں کیا۔
این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ذکیہ جعفری کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل کپل سبل نے کہا کہ معاملہ میں ایس آئی ٹی نے سی ڈی آر کی جانچ نہیں کی، گواہان سے بات نہیں کی، فون کی جانچ نہیں کی گئی، تو آخر کس بنیاد پر حتمی رپورٹ داخل کر دی گئی! انہوں نے مزید کہا کہ گلبرگہ سوسائٹی کے واقعہ میں دھماکہ خیز مادہ لانے اور استعمال کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اگر ایس آئی ٹی گلبرگہ معاملہ کو دیکھ رہی تھی تو وہ تمام معاملات کی تفتیش کیوں کر رہی تھی۔
وہیں ایس آئی ٹی کی جانب سے پیش وکیل مکل روہتگی نے عرضی گزاروں کی جانب سے دی گئی دلیلوں کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملہ میں کی گئی شکایت پر جانچ میں ایسا کچھ نہیں ملا جس کی بنیاد پر اس معاملہ کو آگے بڑھایا جائے۔ جس کے بعد ایس آئی ٹی نے معاملہ میں حتمی رپورٹ داخل کر دی۔کپل سبل نے کہا کہ قومی انسانی حقوق کمیشن کی جانب سے داخل عرضی پر نظر ڈالیں تو واضح ہو جاتا ہے کہ ایس آئی ٹی کا مقصد صرف گلبرگہ نہیں تھا۔ بلکہ لوگوں کے مذہبی جذبات بھڑکا کر اپنی حکومت کے لئے زرخیز مٹی تیار کرتے ہیں۔