علاقائی مسائل، قومی عزائم
سری نواس جنیالہ (انڈین ایکسپریس 18دسمبر 2018)
ترجمہ و تلخیص: محمد بہاء الدین ایڈوکیٹ، ناندیڑ(مہاراشٹرا)
Cell:9890245367
تلنگانہ کے چیف منسٹر ان کے لئے ہوئے فیصلے مسلم کوٹہ برائے تعلیمات کا معاملہ اور وہ یہ بھی امید رکھتے ہیں کہ علاقائی جماعتوں کا اتحاد ملک بھر میں پیدا کرکے وہ اپنے حکمرانیت کو نمونے کے طور پر ملک کو دینا چاہتے ہیں۔
چندر شیکھر رائو جو دوسری مرتبہ تلنگانہ کے چیف منسٹر کی حیثیت سے امتیازی طور پر دوسری مرتبہ کامیاب ہوئے ہیں وہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ مرکزی ریاست میں بڑا رول ادا کرنے کی تیاری میں ہے۔ ان کی پارٹی کی کامیابی کے بعد کے سی آر نے اعلان کیا کہ وہ غیر کانگریسی اور غیر بی جے پیقومی محاذ جو علاقائی جماعتوں پر مشتمل ہوگا تشکیل کرنا چاہتے ہیں۔ تاکہ ریاستوں کی خودمختاری قائم رہے۔ اور اس طرح ان کی تجویز بھی یہ ہے کہ متوازی فہرست جن میں ریاستوں اور مرکز کو یکساں طور پر حاصل ہیں وہ صرف ریاست ہی کے ر ہیں۔
دستور ہند کے مطابق ریاست اور مرکز کے اختیارات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اسی طرح ریاست اور مرکز کے درمیان یکساں طور پر جو فہرست مرتب کی گئی ہے جیسے کہ ڈیفنس، ہوائیہ، ریل، امور خارجہ، جو بالکلیہ طور پر مرکز کے تحت رہیں گے، لیکن دوسرے معاملات جیسے میونسپل ایڈمنسٹریشن، حمل و نقل، صحت وہ ریاست کے تحت رہیں گے۔ اس لئے متوازی فہرست میں جو معاملات آتے ہیں انہیں دونوں ریاست اور مرکز کو اس سلسلے میں اختیارات حاصل ہیں۔ جیسے پرائمری سے لیکر یونیورسٹی تک کی تعلیم،صحت اور خاندانی امور بہبودی،سائنس ٹیکنالوجی، جنگلات، ماحولیات وغیرہ۔ اس طرح کے سی آر کا اس بات پر اصرار ہے یہ جو متوازی فہرست ہے اس میں دئے گئے اختیارات کو مرکز سے کم کرتے ہوئے ریاست ہی کو حاصل رہیں گے۔ ان کے کہنے کے مطابق ’’ قومی جماعتیں چاہتی ہیں کہ متوازی فہرست کو مرکز کے زیر تحت رکھا جائے تاکہ مرکز اپنے اختیارات کا استعمال ریاستوں پر کرسکے۔ میرے نظریہ کے مطابق اس طرح کی متوازی فہرست نئی ہونی چاہئے۔ اور ریاستی حکومت کو چاہئے وہ ان معاملات پر فیصلے لے جو ان کی ریاستوں کے لئے بہتر ہوسکتے ہیں۔ ‘‘
ریاست بنام مرکز
کے سی آر جن وجوہات کی بناء پر اپنا نظریہ پیش کررہے ہیں تاکہ ریاستوں کو آزادانہ اختیارات مل سکیں۔ بالخصوص جیسے تلنگانہ۔
مسلم تحفظات
پچھلے برس تلنگانہ میں 12 فیصد تحفظات مسلمانوں کو دینے کے سلسلے میں قرارداد منظور کی ہے لیکن وہ اس پر عمل آوری کرنے سے قاصر ہے۔ اس لئے کہ پچاس فیصد تحفظات کی جو تحدید سپریم کورٹ نے لگائی ہے اس لئے وہ چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ اس معاملہ میں قانون سازی کرے اور تحدیدات کو منسوخ کرے۔ اور اسی طرح مرکز کو چاہئے کہ تحفظات کے معاملہ میں فیصلہ مقدار اور معیاد وہ سب ریاستوں کے اختیار میں رہے۔
پرائمری ایجوکیشن
کے سی آر کا کہنا ہے کہ مرکز کو اس بات کی اجازت دینا چاہئے کہ اس معاملہ میں بھی یعنی پرائمری ایجوکیشن میں ریاستی حکومت خود مختار رہے۔ انہوں نے یہ سوال اٹھایا کہ مرکز کو اس بات کی کیا معلومات اور واقفیت ہے کہ تلنگانہ کے کس حصہ میں کون سی تعلیم کی ضرورت ہے۔ وہ اپنے اختیارات صرف اس لئے استعمال کرنا چاہتی ہے کہ وہ اس کے لئے فنڈ فراہم کرتی ہے۔ ریاست میں کتنے مدرس کو تقرر کسی مدرسے میں کرنا چاہئے یہ ریاست کا معاملہ ہے۔ تلنگانہ کی ریاستی حکومت پنچایت اسکولوں اور ٹیچروں کو تنخواہیں ادا کررہی ہیں جہاں کنٹریکٹ ورکرس کے تقررات کو مرکز کی مداخلت کی وجہ سے دو سال پہلے علیحدہ کرنا پڑا۔
شہری ترقیاتی پروگرام
کے سی آر کے مطابق مرکز کو اس معاملہ میں کہ کون سے شہر کو کس قسم کی ضروریات ہے۔ وہاں کیا ترقی ہونی چاہئے،وہ ریاست دیکھے۔ اس لئے ان کا کہنا ہے کہ ’’ ہر ریاست میں مختلف مقامی قائدین ہوتے ہیں جو زیادہ بہتر طریقے سے جانتے ہیں کہ کس شہر کو کتنی ترقیاتی پروگراموں کی ضرورت ہے نہ کہدلی میں بیٹھ کر کوئی بھی اس معاملہ میں تصفیہ کرے۔‘‘
عدالت عظمیٰ
کے سی آر کی تجویز یہ بھی ہے ہر ریاست کے مرکز میں سپریم کورٹ کی بنچ ہونی چاہئے ۔ نہ کہ صرف ایک ہی سپریم کورٹ جو دلّی ہی میں۔
علاقائی متبادل
سپریم کورٹ نے کہا کہ نہ ہی بی جے پی اور نہ کانگریس اس قسم کی حکمرانیت عوام کو دینے سے قاصر ہے۔ جیسا کہ اب عوام کی موجودہ توقعات۔ کے سی آر کا کہنا ہے کہ ’’ آج کے حالات میں اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ قومی سطح پر ایک متبادل سیاسی پارٹی وجود میں لائی جائے۔ عوام اس کے لئے بے چین ہے۔ اور یہ تحریک تمام علاقائی پارٹیوں کو ہندوستانیوں کو ملک بھر میں متحدکرسکتی ہے جو کانگریس اور بی جے پی کے متبادل ہوگی۔اس طرح موجودہ حالات کے لئے ایک نئی سیاسی جماعت کی تعریف تعین کی ہے۔ جو ملک کے لئے سیاسی منظرنامہ کے تحت ضروری ہے۔‘‘
ان کا کہنا ہے کہ ’’ان کی حلیف جماعت اے آئی ایم آئی ایم کے چیف کے ساتھ وہ سارے ملک کا دورہ کریں گے کہ علاقائی پارٹیوں کو شناخت کرتے ہوئے اس عظیم اتحاد کو تشکیل کریں۔‘‘ اس وقت ملک میں ایک سیاسی بحران پھیلا ہوا ہے اس لئے کہ فوری طور پر سرجری کی ضرورت ہے۔ معاشیات، زراعت کے سیکٹرز میں ایک انقلاب کی ضرورت ہے۔ ملک میں اس وقت پندرہ کروڑ کاشتکار ہیں۔ ان کے لئے معیاری طور پر تبدیلی لانا اس ملک کی سیاست کے لئے ضروری ہے۔‘‘
کے سی آر کا منصوبہ ہے علاقائی پارٹیوں کے صدور سے مل کر یہ متبادل سوچ و فکر کا احیاء کریں گے۔ انتخابات جو ہوئے ہیں ہماری پالیسیوں، ناکامی اور حکمرانیت کا نتیجہ ہے۔ تلنگانہ سارے ملک کے لئے ایک نمونہ ہے۔ آپ جلد ہی دیکھیں گے کہ میں جلد ہی متبادل قومی جماعت کی پارٹی کے لئے کوششوں کا آغاز کردوں گا۔