نئی دہلی: دہلی اسمبلی کے آٹھ فروری کو ہونے والے انتخابات کےلئے جیسے جیسے وقت نزدیک آرہا ہے مختلف سیاسی پارٹیوں کے درمیان ایک دوسرے پر حملہ تیز ہوگیاہے۔تازہ واقعات میں اطلاعات و نشریات کے وزیر اور اسمبلی انتخابات کےلئے بھارتیہ جنتاپارٹی(بی جےپی)کے انچارج پرکاش جاوڈیکر نے کہا کہ وزیراعلی اروند کیجریوال کے دہشت گرد ہونے کے ثبوت ہیں۔
#WATCH Union Minister Prakash Javadekar in Delhi: Kejriwal is making an innocent face & asking if he is a terrorist, you are a terrorist, there is plenty of proof for it. You yourself had said you are an anarchist, there is not much difference between an anarchist & a terrorist. pic.twitter.com/vRjkvFKGEO
— ANI (@ANI) February 3, 2020
بی جے پی کے پنڈت پنت مارگ میں واقع ریاستی دفتر میں پرکاش جاوڈیکر نے پیر کو نامہ نگاروں سے کہا کہ اروند کیجریوال پوچھ رہے ہیں کہ کیا میں دہشت گرد ہوں،تو اس بات کے کئی ثبوت ہیں۔پریس کانفرنس میں ریاستی بی جےپی صدر منوج تیواری اور وزیرمملکت برائے خزانہ انوراگ ٹھاکر بھی موجود تھے۔
اس سے پہلے مغربی دہلی سے بی جےپی رکن پارلیمنٹ پرویش صاحب سنگھ ورما نے کیجریوال کو دہشت گرد کہاتھا۔الیکشن کمیشن نے پرویش ورما کے اس بیان کے بعد انہیں بی جےپی کے اسٹار پرچارکوں کی فہرست سے باہر کرنےکے ساتھ ہی پرچار پر 96گھنٹے کی روک بھی لگا دی ہے۔
پرکاش جاوڈیکر نے پریس کانفرنس میں کہا،’’کیجریوال مایوس چہرہ بناکر یہ پوچھ رہے ہیں کہ کیا وہ دہشت گرد ہیں؟اس کے بہت ثبوت ہیں۔کیجریوال نے خود کہاتھا کہ میں ’انارکیسٹ‘ہوں،تو دہشت گرد اور انارکیسٹ میں بہت زیادہ فرق نہیں ہوتا۔‘‘ مرکزی وزیر نے کہا کہ کیجریوال پنجاب کے موگا میں خالستان کمانڈو فورس کے دہشت گرد کمانڈر گروندر سنگھ کی رہائش گاہ پر رات بھر ٹھہرے تھے۔ کیجریوال وہاں غلطی سے نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر ٹھہرے تھے۔عام آدمی پارٹی(آپ)شہریت ترمیمی قانون (سی اےاے)کے خلاف شاہین باغ میں پچھلے تقریباً 50دن سےجاری احتجاجی مظاہرے کی حمایت کررہی ہے۔پرکاش جاوڈیکر نے کہا کہ جناح والی آزادی اور آسام کی تقسیم کی بات کرنے والوں کے ساتھ کھڑا ہونا بھی ایک قسم کی دہشت گردی ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو