یاسر ندیم الواجدی
25 نومبر کا دن الحمد للہ خیریت سے گزرگیا، کچھ لوگ اس بات سے خوش بھی ہیں کہ شیوسینا کی ریلی میں چند ہزار ہی لوگ تھے اور ریلی مکمل طور پر فلاپ تھی۔ یہ بات یقینا باعث اطمینان ہے کہ شیوسینا نے بی جے پی کا بنا بنایا گیم بگاڑدیا۔ شیوسینا کو معلوم تھا کہ لوگ کم ہی آنے ہیں۔ 23 نومبر کو شیوسینا نے یہ اعلان کیا تھا ادھو ٹھاکرے کے ساتھ تین ہزار لوگ مہاراشٹر سے جانے کے لیے تیار ییں۔ جس پارٹی کا شمالی ہند میں کوئی وجود نہ ہو، وہ صرف تین ہزار افراد ایودھیا لاکر کیا کرنا چاہتی تھی؟
ایودھیا کا یہ تماشہ دراصل مہاراشٹر کی مقامی سیاست کا اثر ہے، جہاں برسر اقتدار بی جے پی اور اس کی معاون شیو سینا میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں ہے۔ بی جے پی کو سپورٹ کرنا اس کی مجبوری تھی، لیکن اب سپورٹ کرتے رہنا اس کے لیے خود کشی کے مرادف ہے۔ اگر 25 نومبر کی ایودھیا ریلی صرف وی ایچ پی کے ذریعے منعقد ہوتی تو کیا یہ شو اتنا فلاپ ہوتا؟ وی ایچ پی کی ریلی کا مقصد جہاں اگلے ماہ منعقد ہونے والے صوبائی انتخابات میں بی جے پی کو فائدہ پہنچانا تھا، وہیں ان انتخابات میں، خراب کارکردگی کی صورت میں عوامی دباؤ کا بہانہ بناکر پارلیمنٹ میں آرڈیننس بھی لانا تھا، تاکہ اس کی بنیاد پر دو ہزار انیس کا الیکشن لڑا جاسکے۔
لیکن "بھلا ہو” شیوسینا کا، اس نے مہاراشٹر میں بی جے پی کی مقبولیت میں کمی لانے اور اپنا وجود بچانے کے مقصد سے، حکومت کے اس رنگ میں بھنگ کردیا۔ امید ہے کہ مدھیہ پردیش اور راجستھان میں بی جے پی، وی ایچ پی کی ریلی کو بھی اپنے حق میں کیش نہیں کرا پائے گی، کیوں کہ اب رام مندر کے لیے آواز بلند کرنے والی سیاسی پارٹی "معصوم عوام” کے نزدیک شیوسینا ہے نہ کہ بی جے پی۔
بے جے پی کے لیے دوسرا بڑا مسئلہ پارلیمنٹ میں رام مندر آرڈیننس لانا بھی ہوگا۔ اس خصوصی قانون کو اگرچہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جاسکے گا جیساکہ ماضی میں چند آرڈیننسس کو کیا بھی گیا ہے، لیکن اس خصوصی قانون کے ذریعے بی جے پی صرف یہ پیغام دے سکتی ہے وہ رام مندر کے تعلق سے سنجیدہ ہے، البتہ کہانی میں موڑ یہاں آتا ہے کہ اب اگر پارلیمنٹ میں آرڈیننس پاس ہوا تو اس کا کریڈٹ شیوسینا بھی لے گی اور بی جے پی رام مندر بنانے کا سہرا اکیلے اپنے سر نہ لے سکے گی، کیوں کہ آرڈیننس کا مطالبہ جس زور وشور سے ادھو ٹھاکرے نے کیا ہے، وی ایچ پی نہیں کرپائی۔
اس موقع پر میں مسلمانوں کو مبارکباد دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ انھوں نے یا ان کی قیادت نے کسی منفی بیان بازی کا سہارا نہیں لیا۔ مسلمان مشتعل نہ ہوکر اپنے روز مرہ کے کاموں میں لگے رہے۔ 1992 سے پہلے ایسا نہیں ہوا کرتا تھا۔ جو لوگ اس دور سے واقف ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ کیسے اس طرح کے اجتماعات سے بآسانی فساد ہوجایا کرتا تھا۔ یہ بات یقین سے اور پوری ذمے داری کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ حکومتی حلقے اس بات سے پریشان ہیں کہ مسلمان ردعمل کیوں نہیں کررہے ہیں۔ انھوں نے میڈیا کے ذریعے گزشتہ تین سالوں میں جتنا اسلام اور مسلمانوں کو نشانہ بنایا ہے، اس سے پہلے کبھی نہیں بنایا، لیکن مسلمانوں کی طرف سے سکوت اور بہت سے علاقوں میں منظم سکوت آج کل بی جے پی کے لیے پریشانی کا باعث ہے اور اس کے لیے قیادت سے زیادہ عام مسلمانوں کو کریڈٹ دیا جانا چاہیے۔