کیا دھولیہ بی جے پی دیش بھکتی کے کھوکھلے نعروں سے عوام کو گمر اہ کر رہی ہے…؟

مجلس اتحاد المسلمین کے آ مدار ڈاکٹر فاروق انور شا ہ نے کورونا سے شفایاب ہوئے اپنے اہل خانہ کے پلازمہ عطیہ کرنے کی خو اہش ظاہر کرکے دیش بھکتی کے کھوکھلے نعروں کے منہ پر طمانچہ مارا..

کل اچانک دھولیہ شہر کی سیاست میں ایک زلزلہ آیا.. ملک کی سب سے بڑی فرقہ پرست پارٹی نے ضلعی کلکٹر کو میمورنڈم دیا کہ مالیگاؤں سے کرونا کے مریضوں کو دھولیہ کے سرکاری دوا-خانہ میں لاکر علاج نہ کیے جائیں. دیکھنا کیا تھا پورا شہر اس انسانیت کے دشمنوں کی سیاسی چالوں سے واقف ہوگیا.

کیونکہ شام ہوتے ہی ان کا یہ جملہ کہ کورونا کے مریضوں کو دھولیہ لاکر علاج کیا جانے والا ہے، محض ایک جھوٹ ثابت ہوا کیونکہ ہیرے میڈیکل کالج نے اس بات سے صاف انکار کردیا کہ ایسا کوئی حکم انہیں ملاہے..جس کے بعد معاملہ خاموش تو ہوگیا لیکن *کچھ تو تھا جس کی پردہ داری تھی..* اور اس راز کو فاش کیا شہر دھولیہ کے *مراٹھی نیوز پیپر اپلا مہاراشٹر نے*… جس میں ایک خبر لگی ہوئی تھی کہ شہر کے *سول ہاسپٹل سے 4 ڈاکٹروں کو ہیرے میڈیکل کالج میں کورونا مریضوں کے علاج کے لئے وقتی طور پر ڈیوٹی دی گئی مگر ان میں سے صرف ایک ہی ڈاکٹر وہاں پہنچا باقی تین نہیں گئے… تو وہ کون تھے..؟ کس کے سیاسی دباؤ پر ان تین ڈاکٹروں پر کاروائی نہیں یوئی… ؟کیوں ان ڈاکٹروں کے رجسٹریشن کینسل نہیں کیے گئے…؟* سوال کیا تھا کہ عام عوام نے جواب تلاش کرلیا اور شام تک شہر میں ایسی باتیں یا افواہیں گردش کرنے لگیں کہ *تینوں ڈاکٹروں کا تعلق شہر دھولیہ کے دیش بھکتی کا کھوکھلہ نعرہ دینے والی بی جے پی کے لیڈران سے ہے.* اور اسی کھوکھلے دیش بھکتی کے جھوٹے دعوے داروں نے ایک افواہ کے بھروسے پر کہ مالیگاؤں کے کورونا مریض دھولیہ لائے جانے والے ہیں، کو بنیاد بنا کر پورے شہر سے اپنی *فیملی کے دیش دروہی ڈاکٹروں کی مزموم حرکت کو چھپانے کی ناکام کوشش کی…*

وہیں دوسری طرف جب سے ملک میں مرکزی حکومت نے بناء کسی تیاری کے غریب عوام کیلئے کوئی روزی روٹی کا انتظام نہ کرتے ہوئے لوک ڈاؤن کا اعلان کیا *شہر دھولیہ کے مجلس اتحاد المسلمین کے دبنگ آمدار ڈاکٹر فاروق شاہ صاحب اور مجلس اتحاد المسلمین کے ورکر* مسلسل بلاتفریق مذہب عوام کی بھوک مٹانے اور ان کو مفت کھانا پہنچانے میں لگے ہوئے ہیں اسی درمیان *مجلس اتحاد المسلمین کے ضلعی صدر حاجی کلیم شاہ صاحب* ان غریب عوام کی بھوک کے درد کو مٹانے کیلئے اپنی جان کے بازی لگا گئے *غریب عوام کی بھوک مٹانے کی خاطر اپنے بچوں کو یتیم اور بیوی کو بیوہ کر گئے. اپنی بوڑھی ماں کے آنچل کو آنسوؤں سے بھگوکر شہادت کا جام نوش کر گئے..* ان سے تعلق رکھنے والے مزید تین افراد کورونا پوزیٹیو پائے گئے اور *14 دنوں کا مکمل علاج کرکے شفایاب ہوکر گھر لوٹے.

* گھر لوٹ کر دو. دن قبل *شہر کے آمدار ڈاکٹر الحاج فاروق انورشاہ صاحب نے ضلع کلکٹر کو درخواست کی کہ میرے گھر کے تینوں شفایاب ہوچکے مریض اپنا پلازمہ دوسرے مریضوں کیلئے دان (عطیہ) دینا چاہتے ہیں..
*شہر کی عوام فیصلہ کرے..* شہر کے دو دن میں ہونے والے دو واقعات پر فیصلہ کرے کہ ایک طرف فرقہ پرست پارٹی اپنے آپ کو دیش بھکت ہونے کا دعویٰ کرتی ہے اور اپنے گھر والوں جوکہ پیشے سے ڈاکٹر ہیں ان کو کورونا مریضوں کے علاج نہ کرنے کیلئے انسانیت کو شرمندہ کرتی ہے کہ مالیگاؤں کے مریضوں کو دھولیہ لاکر علاج نہ کیا جائے.. دراصل وہ اپنی کھوکھلی دیش بھکتی کی آڑ میں اپنے گھر کے دیش دروہی ڈاکٹروں کا بچاؤ کر رہے تھے شہر کی عوام کو دیش بھکتی کے نام پر دھوکہ دے رہے ہیں *جبکہ شہر کے آمدار جنہوں نے اپنے گھر کا ایک انسان کھو دیا مزید تین کورونا کی جنگ لڑ کر گھر آئے ہی تھے کہ دوسرے مریضوں کیلئے اپنا پلازمہ عطیہ (دان) کرنے نکل پڑے…* *_کون دیش بھکت… ؟… کون دیش دروہی… ؟ عوام فیصلہ کرے…_*.

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading