کووڈ انیس مریضوں کی ‘زندگی بچانے والی’ دوا مل گئی

برطانیہ میں محققین کا کہنا ہے کہ انہیں ایسے شواہد ملے ہیں کہ ایک دوا کووڈ انیس مرض میں مبتلا افراد کی زندگی بچانے میں انتہائی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔برطانوی ریسرچرز کے مطابق ‘ڈیکسامیتھاسون’ نامی ایک سٹیرؤڈ ایک تہائی شدید بیمار افراد کی زندگیاں بچانے میں کامیاب رہا ہے۔ تحقیق کے نتائج کا اعلان کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ مکمل ریسرچ کو جلد شائع کیا جائے گا۔

اس تحقیق کے دوران دو ہزار ایک سو چار مریضوں کو علاج کے دوران یہ دوا دی گئی تھی اور ان مریضوں کا موازنہ ان چار ہزار سے زائد مریضوں سے کیا گیا تھا جن کا معمول کا علاج کیا جارہا تھا۔تحقیق کے نتائج بتاتے ہیں کہ اس نے ایسے افراد میں اموات کو پینتیس فیصد کم کر دیا تھا جنہیں سانس لینے کے لیے مشین کے سہارے کی ضرورت تھی اور ایسے افراد میں اموات بیس فیصد کم ہو گئی تھیں جنہیں اضافی آکسیجن کی ضرورت تھی۔

یہ دوا ان مریضوں کی مدد گار ثابت نہیں ہوئی جو زیادہ بیمار نہیں تھے۔اس تحقیق کے بانی بیٹر ہوربی کا کہنا ہے،” یہ واضح ہو گیا کہ وہ مریض جہنیں آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے ان میں زندہ بچ جانے کی شرح کافی زیادہ ہے۔

لہذا ‘ڈیکسامیتھاسون’ کو علاج کا حصہ بنانا چاہیے۔ یہ مہنگی دوا نہیں ہے اور اسے دنیا بھر میں زندگیاں بچانے کے لیے فوری طور پر اس کا استعمال شروع کر دیا جانا چاہیے”

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading