کوورنا وائرس: چین جس رپورٹ کا اجرا رکوانا چاہتا تھا، وہ جاری کر دی گئی: تفصیلات جانیے

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ، چین، یورپی یونین کی جانب سے ایک رپورٹ کا اجرا رکوانا چاہتا تھا۔

اس رپورٹ میں چین پر کورونا وائرس کے انفیکشن کے پھیلاؤ کے حوالے سے غلط معلومات دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

روئٹرز کے مطابق چین چاہتا تھا کہ اس رپورٹ کو روکا جائے۔ روئٹرز نے یہ خبر چار ذرائع اور سفارتی خط و کتابت کا جائزہ لینے کے بعد دی ہے۔

لیکن اس رپورٹ کو جاری کر دیا گیا ہے۔ یورپی یونین میں چینی مشن کی طرف سے اس رپورٹ پر ابھی تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

چین کی وزارت خارجہ نے بھی ابھی تک اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ روئٹرز کے مطابق یورپی یونین کے ایک ترجمان کا کہنا تھا ’ہم ایسے معاملات پر کوئی تبصرہ نہیں کرتے ہیں۔ یہ ہمارے اور دوسرے ممالک کے مابین ایک ڈائیلاگ ہے۔‘ یورپی یونین کے ایک اور عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا کہ یہ رپورٹ جس حالت میں تھی اسی طرح جاری کی گئی ہے۔

روئٹرز کے مطابق اس سے قبل یہ رپورٹ 21 اپریل کو جاری کی جانی تھی لیکن چینی حکام کو اس کا علم ہو جانے کے باعث اس میں تاخیر ہوئی۔ روئٹرز کے مطابق ’ایک سینئر چینی عہدیدار نے چین میں یورپی یونین کے عہدیداروں سے رابطہ کیا اور کہا کہ اگر آج اسی شکل میں رپورٹ جاری کی گئی تو ہمارے درمیان باہمی تعاون کے لیے یہ بہت برا ہوگا۔‘

روئٹرز نے چینی وزارت خارجہ کے عہدے دار یانگ شی گوانگ کے ایک تبصرے کا حوالہ دیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ رپورٹ شائع ہوئی تو یہ چین کو ناراض کرنے والا اقدام ہوگا۔ اس رپورٹ میں چین پر غلط معلومات دینے اور بعد میں اپنی بین الاقوامی امیج کو بہتر بنانے کے لیے بہت سے اقدامات کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading