نئی دہلی۔ کرونا وائرس کو لے کر قومی دارالحکومت دہلی سمیت پورا ملک ہائی الرٹ پر ہے اور اسے وبا قرار دئیے جانے کے بعد اسکولوں، سنیما ہالوں اور کالجوں کو بند کر دیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ شادیوں میں بھی زیادہ لوگوں کے جمع ہونے سے روکا جارہا ہے ۔تمام لوگوں سے احتیاط برتنے کو کہا جارہا ہے۔ صورت حال کی سنگینی کے مدنظر وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے دہلی میں ایک جگہ پر 50 سے زائد افراد کو جمع نہ ہونے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔ لیکن ایسا کرنے کے باوجود شاہین باغ کی خواتین مظاہرین ابھی بھی احتجاج گاہ پر ڈٹی ہوئی ہیں اور شہریت قانون کے خلاف ان کا پر زور احتجاج جاری ہے۔
شاہین باغ میں شہریت قانون کے خلاف مظاہرہ کر رہیں خواتین کا کہنا ہے کہ ان کا احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ شہریت قانون اور این پی آر کو واپس نہیں لے لیا جاتا۔ نیوز 18 سے گفتگو کرتے ہوئے ان خواتین کا کہنا تھا کہ اروند کیجریوال کو ہم بتانا چاہتے ہیں کہ وہ وائرس سے پریشان ہیں لیکن انہیں جا کر وزیر اعظم سے ہمارے احتجاج اور مطالبات کے بارے میں بات کرنی چاہئے۔ ہم یہاں 3 ماہ سے مسلسل احتجاج پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ہم خوشی سے یہاں نہیں بیٹھے ہیں۔
احتجاج کار خواتین نے مزید کہا کہ بسوں، ٹرینوں اور ہوائی اڈوں پر ہر جگہ ہجوم ہے تو کیا تمام مقامات کو بند کردیا جائے گا۔ خواتین نے کہا کہ حکومت قانون واپس لے لے، ہم اپنا احتجاج ختم کردیں گے ورنہ ہمارا احتجاج بدستور جاری رہے گا۔ کیونکہ ہم کرونا وائرس سے ایک بار مریں گے لیکن یہ قانون روزانہ ہمیں مار رہا ہے۔ خواتین نے بتایا کہ وہ اس بیماری کو لے کر بیدار ہیں اور ہر طریقے سے احتیاط برتی جارہی ہے۔ جو بھی شخص یہاں پر آتا ہے اس کو سینیٹائزر دیا جاتا ہے۔ جو خواتین مظاہرے میں بیٹھی ہوئی ہیں، انہوں نے نقاب لگا رکھا ہے اور ان کو تھوڑے تھوڑے وقت میں میں سینیٹائزر دیا جاتا ہے۔