سیاہ قوانین کے خلاف قومی سطح پر جلد ہی جیل بھرو آندولن: محمود پراچہ

نئی دہلی۔شہریت ترمیمی قانون (CAA) ، نیشنل پاپولیشن رجسٹریشن(NPR) ،نیشنل رجسٹر آف سیٹزنز (NRC) کے خلاف قومی سطح پر جیل بھرو احتجاج شروع کیاجائیگا۔ سپریم کورٹ کے معروف وکیل محمود پراچہ نے یہ بات کہی ہے۔ محمود پراچہ نئی دہلی کے ابوالفضل انکیفلو میں واقع مسجد ِ شان ِ الہی میں منعقدہ ایک اجلاس عام سے خطاب کررہے تھے۔

محمود پراچہ نے کہا کہ شہریت ترمیمی قانون ، این پی آر اور این آرسی کے خلاف جاری احتجاجی مظاہروں کو نئی جہت بخشنے کی خاطر اب ملک گیر سطح پر جیل بھرو احتجاج شروع کیاجانا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ جیل بھر و احتجاج کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ایک مسجد کمیٹی کے تحت ایک اور کمیٹی تشکیل دی جانی چاہیے اور این پی آر کے انداراج کر نے کے لیے آنے والے سرکاری ملازمین سے یہ کمیٹی سوال وجواب کریگی اور ضرورت پڑنے پر یہ کمیٹی کے ارکان اجتماعی طورپر جیل بھرو احتجاج کرینگے۔ محمود پراچہ نے کہا کہ دستور ہند میں دیئے گئے جمہوری حقوق کا استعمال کرتے ہوئے ایک منظم انداز میں جیل بھرو احتجاج کو کامیاب بنایاجانا چاہیے ۔
مسجد شان ِ الہی میں خطاب کے دوران محمود پراچہ نے کہا کہ کسی بھی محلہ میں این پی آر کا اندراج کرنے کے لیے آنے والے افراد کو شہریان مسجد کو بھیج دیں اور مساجد کے کمیٹیاں سرکاری ملازمین سے بات کرکے انہیں بتائیں کہ عوام این پی آر کے تحت اپنی کوئی بھی تفصیل فراہم نہیں کرینگے۔ محمودپراچہ نے کہاکہ این پی آر کا اجتماعی بائیکاٹ کرتے ہوئے مرکزی حکومت کے منصوبوں کو ناکام بنایاجاسکتاہے۔

انہوں نے کہا کہ این پی آر میں تفصیلات فراہم کرنے اور دستاویزات دینے کے بعد باوجود بھی پسماندہ طبقات، قبائلی طبقات اور مسلمانوں کی شہریت برقرار نہیں رہے گی ۔ اس لیے عوام کو چاہیے کہ وہ اجتماعی طورپر این پی آر کا بائیکاٹ کریں ۔ محمود پراچہ نے کہا کہ ملک کی مختلف ریاستوں میں علاقائی سیاسی جماعتوں نے این پی آر کی مخالفت کرنے کا فیصلہ کیاہے اسی لیے ان ریاستوں کے عوام بھی این پی آر کا بائیکاٹ کریں گے اور این پی آر کا بائیکاٹ کرنے پر کسی کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں کی جاسکتی ہے ۔

(بہ شکریہ نیوز 18 اُردو)

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading