کلکتہ11ستمبر (یواین آئی)عجیب و غریب دعویٰ کرتے ہوئے بنگال بی جے پی کے صدر دلیپ گھوش نے کہا ہے کہ”کورونا کی وبا“ ختم ہوچکی ہے۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی صرف بی جے پی کی ریلیوں کو روکنے اور اس کے انتخابی پروگراموں کو سبوتاژ کرنے کیلئے بنگال میں لاک ڈاؤن نافذ کررہی ہیں۔
ضلع ہگلی میں ایک بڑی ریلی سے خطاب ہوئے دلیپ گھوش نے کورونا کے ختم ہونے کا د عویٰ کیا کہ جب کہ کل بھی مغربی بنگال میں 3100 سے زاید کورونا کے کیسیز سامنے آئے ہیں اور 41 لوگوں کی موت ہوگئی ہے۔ کلکتہ پولس کمشنر انوج شرماکورونا سے متاثر ہوگئے ہیں ا ورجلپائی گوڑی سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ کورونا سے متاثر ہوگئے ہیں۔ ملک بھر میں کورونا کے 96,551 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔
دلیپ گھوش لگاتار متنازع بیانات دیتے رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مسٹر گھوش نے مجمع سے پوچھا کہ کیا وہ پولس اور ترنمول کانگریس کے ورکروں سے بدلہ لینے کو تیار ہیں جو بی جے پی ورکروں کے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کرتے ہیں۔ انہوں نے بی جے پی ورکروں سے مبینہ طور پر کہا کہ اپنے پاس لوہے کا راڈ تیار رکھیں اور اگر کوئی حملہ کرے تو آپ بھی حملہ کریں اور پولس اہلکاروں اور ترنمول کانگریس کے لیڈروں کا ریکارڈر رکھیں جو جھوٹے مقدمات کرتے ہیں۔دلیپ گھوش کے بیان کے بعد ترنمول کانگریس نے اپنے سرکاری ٹوئیٹ سے اس پرتبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جب پورا ملک کورونا سے لڑرہا ہے تو مسٹر گھوش یہ اعلان کررہے ہیں کہ کورونا ختم ہوگیا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ا ن کے نزدیک انسانی زندگی سے کہیں زیادہ اہم ووٹ بینک کی سیاست ہے۔حال ہی میں انہوں نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ ترنمول کانگریس کے ورکروں کو جوتے سے پیٹا جائے گا۔ انہوں نے بنگال پولس پر بھی الزام لگایا تھا کہ اس کا ایک بڑا حصہ حکمراں جماعت کیلئے کام کررہا ہے۔ مسٹر گھوش نے ہوڑہ میں بھی ایک جلسے میں پولس اہلکاروں پر حکمراں جماعت ترنمول کانگریس کے اشارے پر کام کرنے کا الزام لگایا اور مبینہ طور پر کہا کہ پولس کے ساتھ مارپیٹ کرنے کا ہمارا جمہوری حق ہے۔