شعلہ بیان ہندو رہنما پراچی نے کملیش تیواری کے قتل کے بعد اپنی جان کو خطرے میں بتایا ہے۔ اس نے دعوی کیا ہے کہ کملیش تیواری کو مبینہ اسلامی جہادیوں نے مارا ہے۔ واضح رہے کہ پراچی کو اکثر مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے کے لئے جانا جاتا ہے۔
ہریدوار میں صحافیوں سے بات چیت کے دوان خود ساختہ سادھوی نے اتوار کے روز مرکزی وزیر داخلہ اور اتراکھنڈ و اتر پردیش کی حکومتوں سے خود کی حفاظت کا مطالبہ کیا۔
خوفزدہ پراچی نے کہا، ’’آئی ایس سے مجھے کئی مرتبہ دھمکیاں مل چکی ہیں۔ میں بھگوان پر بہت زیادہ عقیدہ رکھتی ہوں اور اب تک اس کا تذکرہ نہیں کیا لیکن اب کملیش تیواری کے قتل نے مجھے پریشان کر دیا ہے۔‘‘
پراچی نے مزید کہا، ’’کچھ روز قبل کچھ نامعلوم افراد میرے آشرم میں آئے تھے اور میرے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے تھے۔ مجھے لگتا ہے کہ مجھے حفاظت کی ضرورت ہے۔‘‘ پراچی نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے ذریعہ ہندوستان میں جہادیوں کی سرپرستی کی جارہی ہے اور اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئے۔
پراچی نے کہا ، ’’یوگی حکومت کو اس بات کی تحقیقات کرنی چاہئے کہ کملیش تیواری کی سیکیورٹی کو کیوں ہٹایا گیا تھا اور اس کے ذمہ دار عہدیداروں کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ ہندو مہاسبھا کے سابق رہنما اور ہندو سماج پارٹی کے سربراہ کملیش تیواری کو جمعہ کے روز لکھنؤ میں اس کے دفتر پر گلا کاٹنے کے بعد گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ کملیش تیواری کو مسلمانون کے خلاف بیان بازی کے لئے جانا جاتا تھا اور پیغمبر اسلام کے خلاف توہین آمیز تبصرہ کرنے کے بعد اسے جیل میں بھی جانا پڑا تھا۔ کلیش تیواری اس وقت ضمانت پر جیل کے باہر تھا۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
