کشمیر LIVE: فاروق عبداللہ نہ ہی حراست میں ہیں اور نہ ہی انھیں گرفتار کیا گیا… امت شاہ

فاروق عبداللہ کو گرفتار نہیں کیا گیا، وہ حراست میں بھی نہیں: امت شاہ

ایک طرف فاروق عبداللہ کا بیان میڈیا میں آیا ہے کہ ان کے ساتھ مودی حکومت نے دھوکہ کیا ہے اور انھیں ان کے گھر میں ہی قید کر دیا گیا ہے، تو دوسری طرف پارلیمنٹ میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ بار بار یہ یقین دہانی کرا رہے ہیں کہ فاروق عبداللہ کو نہ ہی گرفتار کیا گیا ہے اور نہ ہی انھیں حراست میں لیا گیا ہے۔ لوک سبھا میں جب فاروق عبداللہ کو حراست میں لیے جانے کی بات اپوزیشن پارٹی لیڈران نے کہی تو امت شاہ نے اس سے انکار کیا۔ جب ایوان میں چوتھی بار اس پر وضاحت دینے کے لیے کہا گیا تو امت شاہ نے کہا کہ وہ دس بار بھی وضاحت دینے کے لیے تیار ہیں لیکن صحیح یہی ہے کہ فاروق عبداللہ کو نہ ہی حراست میں لیا گیا ہے اور نہ ہی گرفتار کیا گیا ہے۔


دفعہ 370 پر فاروق عبداللہ کا پہلا رد عمل ’’مودی حکومت نے دھوکہ دیا، مجھے میرے گھر میں نظر بند کیا‘‘

نیشنل کانفرنس کے لیڈر فاروق عبداللہ کا جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ہٹائے جانے کے بعد پہلا رد عمل سامنے آیا ہے۔ انھوں نے نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت نے جموں و کشمیر کے لوگوں کو دھوکہ دیا ہے۔ جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ہٹائے جانے کی بات کرتے ہوئے ان کی آنکھوں سے آنسو آ گئے۔ انھوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت ایسا کیسے کر سکتی ہے، جب کہ جموں و کشمیر کو اس کی آئینی گارنٹی دی گئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ مجھے میرے گھر سے جانے نہیں دیا جا رہا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے میرے گھر میں ہی مجھے جیل کر دیا گیا ہے۔

فاروق عبداللہ نے یہ بیان ٹھیک اس وقت دیا جب ان کے بیان سے کچھ دیر پہلے ہی وزیر داخلہ امت شاہ نے لوک سبھا میں جموں و کشمیر تشکیل نو بل پر بحث کے دوران ایوان کو یقین دہانی کرائی کہ فاروق عبداللہ کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ فاروق عبداللہ کو حراست میں بھی نہیں لیا گیا ہے، وہ اپنے گھر پر ہیں۔


لوک سبھا: جنتا دل یو نے جموں و کشمیر تشکیل نو بل کی مخالفت میں کیا واک آؤٹ

این ڈی اے میں بی جے پی کی شریک پارٹی جنتا دل یو نے لوک سبھا میں جموں و کشمیر تشکیل نو بل کی پرزور مخالفت کی ہے۔ جنتا دل یو نے اس دوران لوک سبھا سے واک آؤٹ کیا۔ جنتا دل یو رکن پارلیمنٹ للن سنگھ نے ایوان میں کہا کہ ہم ایک دوسرے کے نظریات کو جانتے ہیں، لیکن دفعہ 370 پر حکومت کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہیں۔ جنتا دل یو رکن پارلیمنٹ للن سنگھ نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ابھی مودی حکومت کو دہشت گردی سے لڑنا چاہیے تھا، اس طرح کا فیصلہ نہیں لینا چاہیے تھا۔


دہلی: جموں و کشمیر پالیسی پلاننگ گروپ کی کانگریس کے ساتھ میٹنگ آج

جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ہٹائے جانے کے معاملہ پر ہنگامہ جاری ہے۔ اسی درمیان کانگریس پارٹی کی جموں و کشمیر پالیسی پلاننگ گروپ آج کانگریس پارٹی سے ملاقات کرنے والی ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ گروپ پارٹی سے مل کر جموں و کشمیر کے صورت حال اور آئندہ کے امکانات پر اپنی رائے ظاہر کرے گا۔


دفعہ 370 ہٹانا آئین کی دفعہ 3 کے خلاف: منیش تیواری

کانگریس رکن پارلیمنٹ منیش تیواری نے آج لوک سبھا میں دفعہ 370 ہٹائے جانے سے متعلق بل پر بحث کے دوران کہا کہ ’’آئین کی دفعہ 3 کے مطابق کسی ریاست کو توڑنے سے پہلے اس ریاست کی اسمبلی سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔ آج جموں و کشمیر میں اسمبلی تحلیل ہے۔ پارلیمنٹ سے کہا جا رہا ہے کہ آپ غور کریں اور 370 کو ہٹانے کا فیصلہ لیں۔ ایسے میں حکومت کا یہ فیصلہ دفعہ 3 کے خلاف ہے اور یہ ایک آئینی بحران ہے۔‘‘

منیش تیواری نے مزید کہا کہ آندھرا پردیش اور تلنگانہ بننے سے پہلے آندھرا پردیش سے رائے مشورہ کر کے دونوں ریاستوں کی تشکیل کی گئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ اگر آج جموں و کشمیر ہے تو وہ پنڈت نہرو کی حکومت کی وجہ سے ہے، جن کی کوششوں کی وجہ سے جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ بنا۔



لوک سبھا میں ہنگامہ کے درمیان دفعہ 370 ہٹانے سے متعلق بل پیش

لوک سبھا میں جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ہٹانے کا بل مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پیش کر دیا ہے۔ اس درمیان ان کی کانگریس رکن پارلیمنٹ ادھیر رنجن چودھری سے نوک جھونک بھی ہوئی۔ کئی چیزوں پر ادھیر رنجن چودھری وضاحت چاہ رہے تھے اور جواب میں امت شاہ نے کہا کہ جموں و کشمیر سے متعلق قانون ہر حال میں آئے گا اور جموں و کشمیر کے لیے وہ جان دینے کو تیار ہیں۔ فی الحال بل پر بحث جاری ہے اور اپوزیشن کانگریس اس کی سخت الفاظ میں مخالفت کر رہی ہے۔


جموں و کشمیر سے دفعہ 370 منسوخی کے بعد ڈوڈہ ضلع میں 144 نافذ، سیکورٹی سخت

جموں و کشمیر سے دفعہ 370 منسوخی کے بعد سری نگر اور ڈوڈہ سمیت ریاست کے کئی ضلعوں میں دفعہ 144 نافذ ہے، اس دوران سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ پیر کو راجیہ سبھا سے جموں و کشمیر نو تشکیل بل پاس ہونے کے بعد آج لوک سبھا میں اس بل کو پیش کیا جائے گا۔ اس کے پیش نظر پورے ملک میں حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں اور فوج کو الرٹ رہنے کا حکم پیر کے روز ہی دے دیا گیا۔


یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading