
سری نگر، یکم جولائی (یو این آئی) کشمیر زون پولیس کے انسپکٹر جنرل وجے کمار نے کہا ہے کہ جنگجو مساجد کا غلط استعمال کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع بارہمولہ کے ماڈل ٹاون سوپور میں جنگجوئوں نے سی آر پی ایف پر فائرنگ ایک مسجد کے اندر سے ہی کی ہے۔آئی جی پی موصوف نے بدھ کے روز یہاں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا: ‘میں نے حالیہ دنوں میں دیکھا کہ جنگجو ہماری مساجد کا غلط استعمال کررہے ہیں۔
پانپور میں لشکر طیبہ کے دو جنگجو مسجد میں داخل ہوگئے تھے۔ ہم نے فائرنگ کئے بغیر ان کو ہلاک کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی’۔انہوں نے کہا: ‘آج صبح پھر لشکر طیبہ کے دو جنگجوئوں، جن میں ایک پاکستانی عثمان بھائی اور ایک مقامی ناصر ہے، نے مسجد میں گھس کے اندر سے فائرنگ کی۔ جب پولیس پارٹی مسجد کے اندر داخل ہوئی تو انہیں وہاں دو میگزینیں برآمد ہوئیں۔ دونوں وہاں سے فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوئے’۔
وجے کمار نے کہا کہ میں مساجد کی انتظامیہ کمیٹیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ جنگجوئوں پر دبائو ڈالے اور انہیں سمجھائے کہ مذہبی جگہوں بشمول مساجد کا استعمال نہ کریں۔
ان کا مزید کہنا تھا: ‘جنگجو اب بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں بھی فائرنگ کرتے ہیں تاکہ لوگ سیکورٹی فورسز کے خلاف سڑکوں پر آئے۔ ان کا ایک ہی مقصد لاء اینڈ آڈر کی صورتحال کو خراب کرنا’۔آئی جی پی نے سوپور واقعہ کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا: ‘سوشل میڈیا پر لوگ افواہیں پھیلا رہے ہیں اور غلط ویڈیوز اپ لوڈ کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے یہاں لاء اینڈ آڈر کا مسئلہ پیدا ہونے کا خدشہ پیدا ہوا ہے’۔انہوں نے کہا: ‘معمول کی طرح بدھ کی صبح سی آر پی ایف اہلکار ماڈل ٹاون سوپور میں ناکہ لگانے کے لئے پہنچے۔ جب سی آر پی ایف اہلکار گاڑی سے نیچے اتر رہے تھے تو اسی وقت مسجد کے اندر سے اندھا دھند فائرنگ شروع ہوئی جس میں سی آر پی ایف کے ایک جوان شہید ہوگئے جبکہ تین دیگر زخمی ہوگئے’۔ان کا مزید کہنا تھا: ‘وہاں سے کار میں ایک 65 سالہ شہری بشیر احمد جارہے تھے۔ اس کی گاڑی میں ایک چھوٹا بچہ تھا۔ وہ گھبرا کر گاڑی سے نکلے اور بچے کو لیکر محفوظ جگہ کی جانب بھاگنے لگے۔ ان کو بھی ایک گولی لگی جس میں ان کی جان چلی گئی’۔آئی جی پی نے دعویٰ کیا کہ جنگجوئوں کے ڈر سے مہلوک شہری کے بیٹے نے بھی ایک ویڈیو جاری کیا جو سرار غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایچ او سوپور نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر بچے کو وہاں سے بحفاظت نکالا۔ فیملی کو پولیس کی سراہنا کرنی چاہیے۔وجے کمار نے کہا کہ سوپور میں بدھ کی صبح انٹرنیٹ معطل نہ کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ سوشل میڈیا پر بہت زیادہ افواہ بازی ہوئی اور غلط مواد اپ لوڈ کیا گیا۔
انہوں نے کہا: ‘میں نے آج جان بوجھ کر سوپور میں انٹرنیٹ بند نہیں کروایا۔ میں نتیجہ دیکھنا چاہتا تھا۔ میں نے دیکھا کہ انٹرنیٹ بند نہیں کرتے ہیں تو کیا ہوتا ہے۔ لوگوں نے ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کر دیے۔ اگر ہم نے انٹرنیٹ بند کیا ہوتا تو شاید اتنا نہیں ہوتا’۔یہ پوچھے جانے پر کہ مسلح تصادم کی جگہ پر بچے اور اس کے نانا کی تصاویریں کس نے کھینچی اور کیسے وائرل ہوئی تو ان کا جواب تھا: ‘جس نے بھی بچے کی تصاویر وائرل کی ہیں ان کے خلاف کارروائی کریں گے’۔ان کا مزید کہنا تھا: ‘ہم ایک سیکورٹی اجلاس بلائیں گے۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ہم تصادم کی جگہ پر موبائل فون ساتھ لے جانے پر پابندی عائد کریں گے۔ اس کی وجہ سے فورسز اہلکاروں کا دھیان بھی ادھر اُدھر جاتا ہے۔ تصادم کی جگہ پر موبائیل فون لے جانا بالکل غلط ہے۔ میں اس پر روک لگوائوں گا’۔