کسانوں کے حقوق کے لیے کانگریس کی ’کسان سنگھرش نیائے یاترا‘ 30 مارچ کو

کسانوں کے حقوق کے لیے کانگریس کی ’کسان سنگھرش نیائے یاترا‘ 30 مارچ کو
ہرش وردھن سپکال کی قیادت میں دھاراشیو ضلع کے سورت گاؤں سے تلجا پور تک پیدل یاترا، لیڈران اور کسانوں کی شرکت متوقع
ممبئی: ریاست میں کسانوں کے مسائل پر مہاراشٹر پردیش کانگریس نے احتجاجی مہم کا اعلان کرتے ہوئے کسانوں کے حقوق کے لیے ’کسان سنگھرش نیائے یاترا‘ نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ یاترا پیر 30 مارچ کو دھاراشیو ضلع کے سورت گاؤں سے تلجا پور تک نکالی جائے گی۔ اس یاترا کی قیادت کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال کریں گے، جبکہ اس میں پارٹی کے سینئر لیڈرز، عہدیداران، مقامی نمائندے، کارکنان اور بڑی تعداد میں کسانوں کی شرکت متوقع ہے۔
پارٹی کے مطابق یاترا کا آغاز صبح 8 بجے سولاپور-تلجا پور ہائی وے پر واقع سورت گاؤں سے ہوگا، جبکہ شام 5 بجے تلجا پور کے شاردا منگل کاریالہ میں ایک عوامی جلسے کے ساتھ اس کا اختتام کیا جائے گا۔
مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ بی جے پی کی قیادت والی حکومت کی صنعتکار نواز پالیسیوں کے باعث کسان شدید بحران کا شکار ہو گئے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک میں سب سے زیادہ کسان خودکشی کے واقعات مہاراشٹر میں پیش آ رہے ہیں، جو نہایت افسوسناک ہے۔ کسانوں کو اپنی پیداوار کی مناسب قیمت نہیں مل رہی اور کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کے دعوے محض وعدے ثابت ہوئے ہیں۔
پارٹی نے مزید کہا کہ بی جے پی حکومت نے کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کو قانونی درجہ دینے کے اپنے وعدے کو پورا نہیں کیا، اور نہ ہی کم قیمت دینے والوں کے خلاف کارروائی کے اعلانات پر عمل کیا گیا۔ اس کے علاوہ امریکہ کے ساتھ کیے گئے تجارتی معاہدے کو بھی کسان مخالف قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس سے ہندوستان کی زراعت کو شدید نقصان پہنچے گا۔
کانگریس نے کہا کہ وہ کسانوں کے حقوق کے لیے پارلیمنٹ، ریاستی اسمبلی اور سڑکوں پر مسلسل جدوجہد کر رہی ہے اور اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر یہ یاترا نکالی جا رہی ہے۔ پارٹی نے کسانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بڑی تعداد میں اس یاترا میں شریک ہو کر اپنے حقوق کی آواز بلند کریں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading