ڈھونگی بابا اشوک کھرات معاملہ: غیر جانبدارانہ کارروائی ہو تو درجنوں وزراء اور افسران جیل جا سکتے ہیں: ہرش وردھن سپکال
اتحادی لیڈروں نے مبینہ طور پر فڑنویس کو ہٹانے کے لیے عملیات کروائیں، اسی کے بعد کارروائی ہوئی
ممبئی: مہاراشٹر کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے ڈھونگی بابا اشوک کھرات کے معاملے میں سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس کیس میں ایمانداری اور غیر جانبداری کے ساتھ کارروائی کی جائے تو درجنوں وزراء اور دو درجن سے زائد سرکاری افسران جیل کی سلاخوں کے پیچھے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس پورے معاملے میں بڑے پیمانے پر سیاسی اور انتظامی سطح پر روابط موجود ہیں، جن کی مکمل اور شفاف جانچ ضروری ہے۔
سپکال نے کہا کہ سال 2018 میں دیویندر فڑنویس کی قیادت والی حکومت نے اشوک کھرات کے ایشانیشور مندر کو تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے کا سرکاری فنڈ فراہم کیا تھا۔ انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ اس وقت وزیر اعلیٰ کے دفتر میں تعینات رہنے والے اور اس وقت مہاڈا میں افسر کے طور پر خدمات انجام دینے والے ملند بوریکر کے بھی کھرات کے ساتھ قریبی تعلقات تھے، جس کی جانچ ہونی چاہیے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی بھی اس شخص کے ساتھ تصاویر منظر عام پر آئی ہیں، جبکہ ریاست کے اعلیٰ و تکنیکی تعلیم کے وزیر چندرکانت پاٹل کے بھی اس کے ساتھ قریبی روابط ہونے کی اطلاعات ہیں۔ سپکال کے مطابق چندرکانت پاٹل نے مبینہ طور پر وزیر اعلیٰ بننے کے لیے اس کے ذریعے عملیات بھی کروائے۔
ہرش وردھن سپکال نے مزید کہا کہ اشوک کھرات کے معاملات کی معلومات گزشتہ چھ ماہ سے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو حاصل تھیں، لیکن کابینہ کے بعض اراکین اور قریبی افراد کے اس سے تعلقات ہونے کی وجہ سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق حکومت نے اس معاملے کو دانستہ طور پر نظر انداز کیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اتحادی پارٹیوں کے بعض لیڈروں نے دیویندر فڑنویس کو وزیر اعلیٰ کے عہدے سے ہٹانے کے لیے کھرات کے ذریعے مبینہ طور پر عملیات کروائیں، جس کے بعد وزیر اعلیٰ نے اس کے خلاف کارروائی شروع کی۔ سپکال کے مطابق اس پورے معاملے کو اب سیاسی دباؤ اور بلیک میلنگ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، اور فڑنویس اپنے اتحادیوں اور پارٹی کے اندرونی مخالفین کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور جو بھی افراد اس میں ملوث پائے جائیں، خواہ وہ کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں، ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے اور ایسے واقعات کا مستقل خاتمہ ممکن ہو۔