بی جے پی اراکین اسمبلی کی خرید و فروخت میں مصروف: کرشن بی. گوڑا
اسمبلی میں تحریک اعتماد کی بحث کے دوران کانگریس-جے ڈی ایس حکومت میں وزیر کرشن بی. گوڑا نے کہا کہ بی جے پی ’ہارس ٹریڈنگ‘ (خرید و فروخت) کے عمل میں مصروف ہے اور وہ سیاست کو گندہ کر رہے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اقتدار کے لالچ میں بی جے پی آئین کو برباد کر رہی ہے۔ ایک دیگر وزیر سا را مہیش نے بتایا کہ جے ڈی ایس کے سابق ریاستی صدر ایچ وشوناتھ کو بی جے پی نے 26 کروڑ روپے کی پیشکش کی تھی۔
#BIGNEWS: Minister @KrishnaBGowda accuses #BJP of involving in horse trading.#KarnatakaFloorTest #KarnatakaPoliticalCrisis pic.twitter.com/NXMv975o2F
— NEWS9 (@NEWS9TWEETS) July 19, 2019
جب تک بحث ختم نہیں ہو جاتی فلور ٹیسٹ نہیں کرایا جا سکتا: اسپیکر
اسپیکر رمیش کمار نے کرناٹک اسمبلی میں تحریک اعتماد پر جاری بحث کے دوران کہا ہے کہ ’’جب تک بحث ختم نہیں ہو جاتی اس وقت تک ہم فلور ٹیسٹ کے لیے آگے نہیں بڑھ سکتے۔‘‘ دراصل کرناٹک کے گورنر نے دوپہر 1.30 بجے فلور ٹیسٹ کرائے جانے کی ہدایت دی تھی لیکن یہ وقت گزر چکا ہے اور تحریک اعتماد پر بحث جاری ہے۔ گورنر کی ہدایت کے پیش نظر اسپیکر نے اپنی بات ایوان میں رکھی۔ ابھی تحریک اعتماد پر بحث ختم نہیں ہوئی ہے اور ایوان کی کارروائی 3 بجے لنچ تک کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔
#BIGNEWS: Until the debate concludes we can’t proceed for floor test: Speaker Ramesh Kumar#KarnatakaFloorTest #KarnatakaPoliticalCrisis pic.twitter.com/pm2GrqE4Y1
— NEWS9 (@NEWS9TWEETS) July 19, 2019
مجھے اقتدار کا لالچ نہیں، میں آنے والی نسل کے لیے نظیر پیش کرنا چاہتا ہوں: کماراسوامی
اسمبلی میں اعتماد کی تحریک پر بحث کے دوران بولتے ہوئے وزیر اعلیٰ کمارا سوامی نے کہا کہ ’’مجھے اقتدار کا لالچ نہیں ہے۔ یہ عہدہ میرے لیے اہم نہیں ہے۔ میں آنے والی نسلوں کے لیے ایک نظیر پیش کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے وزیر اعلیٰ بننے کا خواب نہیں دیکھا تھا۔ میں ایک اچانک بننے والا وزیر اعلیٰ ہوں۔ ہم نے حکومت کو بچانے کے لیے کالے جادو کا سہارا نہیں لیا ہے۔‘‘
اسمبلی میں کماراسوامی نے بی جے پی کو بنایا تنقید کا نشانہ، کہا ’برسرعام ہوا جمہوریت کا قتل‘
اسمبلی میں تحریک اعتماد پر بحث دوبارہ شروع ہو گئی ہے اور وزیر اعلیٰ کماراسوامی نے اپنی بات رکھتے ہوئے آج کہا کہ ’’کرناٹک میں برسرعام جمہوریت کا قتل کیا گیا ہے۔‘‘ ریاست کے سیاسی ماحول کو خراب کرنے کے لیے کماراسوامی نے بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’آزاد اراکین اسمبلی میرے پاس آئے تھے اور انھوں نے کہا تھا کہ بی جے پی صحیح پارٹی نہیں ہے۔‘‘
کرناٹک اسمبلی کی کارروائی شروع
کرناٹک اسمبلی پر آج پورے ملک کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ بیشتر اراکین اسمبلی ’ودھا سدھا‘ میں پہنچ چکے ہیں اور کچھ اراکین بس پہنچنے ہی والے ہیں۔ دیکھنے والی بات یہ ہے کہ آج تحریک اعتماد پر ووٹنگ ہوتی ہے یا نہیں۔
بی جے پی رکن اسمبلی نے نائب وزیر اعلیٰ جی. پرمیشور کے ساتھ کیا ناشتہ
کرناٹک اسمبلی میں رات گزارنے کے بعد بی جے پی اراکین اسمبلی نے اسمبلی احاطہ میں صبح کی سیر کی۔ اس کے بعد بی جے پی کے ایک رکن اسمبلی سریش کمار اسمبلی میں نائب وزیر اعلیٰ جی پرمیشور کے ساتھ ناشتہ کرتے ہوئے دیکھے گئے۔ بی جے پی رکن اسمبلی کے ساتھ ناشتہ کرنے کے بعد نائب وزیر اعلیٰ جی. پرمیشور نے کہا کہ ’’رکن اسمبلی رات میں دھرنے پر تھے۔ یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کے لیے کھانے اور دیگر چیزوں کا انتظام کریں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’کچھ اراکین اسمبلی کو ذیابیطس اور فشار خون کی بیماری ہے، اس لیے ہم نے یہاں سب کچھ انتظام کیا ہے۔‘‘
Karnataka Deputy CM G Parameshwara: They(BJP MLAs) were on an over night dharna at Vidhana Soudha. It's our duty to arrange food&other things for them.Some of them have diabetes&BP, that's why we arranged everything here.Beyond politics we're friends,it's the beauty of democracy. pic.twitter.com/rrH9LSDQSS
— ANI (@ANI) July 19, 2019
آج ہوگی تحریک اعتماد پر ووٹنگ، وزیر اعلی کماراسوامی کے لیے مشکل وقت
کرناٹک میں سیاسی اٹھا پٹخ کا دور جاری ہے اور جمعرات کا دن تو وزیر اعلی کماراسوامی کے لیے کسی طرح گزر گیا، لیکن آج وہ مشکل میں نظر آ رہے ہیں۔ آج اسپیکر پتپپر یہ دباؤ ہوگا کہ وہ تحریک اعتماد پر ووٹنگ کرائیں کیونکہ بی جے پی اراکین اسمبلی ووٹنگ کے لیے بضد نظر آ رہے ہیں۔ اس کے لیے وہ جمعرات کو گورنر کے پاس بھی پہنچ گئے تھے۔ 18 جولائی کو ووٹنگ نہ کرائے جانے سے ناراض اپوزیشن لیڈر یدی یورپا اور بی جے پی اراکین اسمبلی رات بھر اسمبلی میں دھرنے پر بیٹھے رہے اور کھانا پینا و سونا سب کچھ اسمبلی میں ہی کیا۔
Karnataka crisis: Yeddyurappa, other BJP MLAs dine, sleep inside Vidhana Soudha
Read @ANI story | https://t.co/7eHSB9aPL7 pic.twitter.com/B9OlveeSXp
— ANI Digital (@ani_digital) July 18, 2019
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
