✒️ شاہ مدثر،عمرکھیڑ
اس وقت پوری دنیا میں کورونا وائرس کی دہشت پھیلی ہوئی ہے۔ سارا فیس بک، اور واٹس ایپ کووڈ 19 اور موت کی خبروں سے بھرا پڑا ہے۔ کثرت سے اموات ہورہی ہے۔ہر دن کسی نہ کسی عزیز کی موت ہمارے لئے رنج و الم کا سبب بن رہی ہے۔ کووڈ 19 کی وہشت سے عام زندگی مشکل بنتی جارہی ہے۔ ہنستے کھیلتے ہوئے انسان، صحت مند اور تندرست نوجوان دیکھتے ہی دیکھتے موت کی آغوش میں چلے جارہے ہیں۔ ہر طرف ہاہاکار مچی ہوئی ہے۔ لوگ اپنے پیاروں کی زندگی بچانے کی خاطر در بدر پھرتے نظر آرہے ہیں۔۔۔۔ بیویاں بیوہ اور بچے یتیم ہورہے ہیں۔۔۔تو کہیں پر خاندان کے خاندان یکلخت بیکھر رہے ہیں۔۔۔۔انتہائی مشکل گھڑی چل رہی ہے۔۔
۔۔ہر جانب بےبسی اور مایوسی کا منظر ہے۔۔۔۔لوگ آکسیجن اور میڈیسن کے لئے ترس رہے ہیں۔۔۔۔ ہسپتال مریضوں سے بھرے پڑے ہیں۔۔۔ لوگ اپنے عزیزوں کو کھورہے ہیں۔۔۔ کچھ موت و حیات کی کشمکش میں ہے۔۔ یہی نہیں بلکہ امت مسلمہ کا عظیم سرمایہ سفر آخرت کی طرف روانہ ہورہا ہے۔ پے در پے علماء کرام اور تحریک اسلامی کی معروف شخصیات کی وفات ہمارے لئے کسی سانحے سے کم نہیں، اس پر جسقدر ملال کیا جائے کم ہے۔
گزشتہ سال سے تا حال اہل علم کی ایک بڑی تعداد ہم سے جدا ہوئی جس سے ملت اسلامیہ کو بڑا صدمہ پہنچا۔دنیا سے روشن چراغ بجھتے جارے ہیں، قوم و ملت کے صالحین گزرتے جارہے ہیں، اسلامی انقلاب کے نقیب داعی اجل کو لبیک کہتے جارہے ہیں، بڑے بڑے محدثین، مفکرین، مبصرین، مقررین ہم سے جدا ہورہے ہیں، ہر دن کوئی نہ کوئی اللّٰہ کو پیارے ہوتے جارہے ہیں- گہرے زخم دلوں کو لگے ہیں۔آہ۔۔۔۔!! ایک حقیقت۔۔۔موت۔۔۔!!موت۔۔۔!!ایسا لگتا ہے موت شباب پر ہے۔
*ستارے زمیں کے بجھے جا رہے ہیں*
*ہمارے اکابر اٹھے جا رہے ہیں*
*ٹوٹا ہے تسبح کا دھاگہ کچھ ایسے*
*کے سارے ہی موتی گرے جارہے ہیں*
*وہ جن سے تھی روشن فضائیں دہر کی*
*دئیے وہ اک اک بھجے جا رہے ہیں*
*افق کے اس پار کوئی علمی اکٹھ ہے*
*بڑی تکمنت سے اہل علم چلے جا رہے ہیں*
ہمارے درمیان سے ایسی ایسی بااثر شخصیات رخصت ہوتی جارہی ہیں کہ کبھی کبھی یہ خیال آتا ہے کہ اب ملت اسلامیہ کی قیادت کیسے ہوگی؟؟؟ فاشسٹ حکومت کے خلاف تحریک کیسے چلے گی؟ باطل طاقتوں کے خلاف لائحہ عمل کون بنائے گا؟؟ یہ خیال اس لئے بھی پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت ملت اسلامیہ کو سب سے زیادہ منافقت کا سامنا ہے۔ کیوں کہ امت کا ایک بڑا حصّہ باطل طاقتوں کی غلامی اور چاپلوسی میں لگا ہوا ہے۔ باطل حکومت کی گائیڈ لائن میں کام کررہا ہے۔ ایسے وقت میں مخلص اور باصلاحیت شخصیات کا مسلسل رخصت ہوجانا، ملت اسلامیہ کا عظیم خسارہ ہے۔ جن علماء کرام کی نصیحتوں سے ہمارے دل منور ہوتے تھے، جن کی حوصلہ مند قیادت سے ملت اسلامیہ کا معیار بلند ہوتا تھا، جن کے افکار سے باطل نظریات کا رد ہوتا تھا ایسی شخصیات اور علماء کرام کی مسلسل اموات کی خبریں سننے کے بعد زبان یہ کہنے کیلئے مجبور ہورہی ہے کہ اب دنیا اچھے لوگوں سے خالی ہوتی جارہی ہے۔۔گویا تسبیح ٹوٹ کر بکھر گئ ہو اور تسبیح کے تمام دانے بکھرتے چلے جارہے ہیں۔۔۔
دیڑھ سال کے اندر اندر بہت ہی عظیم ہستیاں اس دنیا سے گذر گئیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ ادھر ایک عالم دین کا انتقال ہوتا ہے ابھی اس کی نسبت سے تعزیتی بیانات و پیغامات کا سلسلہ رکتا بھی نہیں ہے کہ پھر کسی بڑے بزرگ اور زبردست عالم دین کی موت کی خبر سننے کو مل جاتی ہے ان علماء کرام کے انتقال سے قیادتوں میں ایک خلا پیدا ہورہی ہے، ملت اسلامیہ کا نا قابل تلافی نقصان ہورہا ہے یہ بلاشبہ امت کیلئے قحط الرجال ہے اس دور میں ایک ایسا نقصان ہے جس کی کمی شاید ہی پوری ہوسکے!
لیکن ایسے موقع پر ہمیں ناامید ہونے کی قطعاً ضرورت نہیں، بلکہ ہمیں پورے عزم و ہمت کے ساتھ ان مشکل حالات کا سامنا کرنا ہے، چونکہ *کل نفس ذائقۃ الموت* کے تحت سبھوں کو اس دنیا سے جانا ہے۔ اللہ تعالی کا کوئی بھی کام حکمت سے خالی نہیں ہے ۔ جیسا کہ صحیح بخاری شریف کی روایت ہے، *عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العَاصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "إِنَّ اللَّهَ لاَ يَقْبِضُ العِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ العِبَادِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ العِلْمَ بِقَبْضِ العُلَمَاءِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا، فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا” حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اللہ علم کو اس طرح نہیں اٹھا لے گا کہ اس کو بندوں سے چھین لے، بلکہ وہ علماء کو موت دے کر علم کو اٹھائے گا، حتیٰ کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنا لیں گے، ان سے سوالات کیے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے جواب دیں گے، اس لیے خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے-* (صحیح بخاری) بس آج جو کچھ بھی ہورہا ہے اللّٰہ تعالیٰ کے فیصلوں کے عین مطابق ہے۔ لہٰذا ایسے نازک حالات میں ہماری یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اپنی استطاعت کے مطابق دین اسلام کی خدمت کرے۔۔ زندگی کی سانسیں اکھڑنے سے پہلے پہلے اللّٰہ تعالیٰ کو راضی کرلیں۔ *آج کے حالات کہہ رہے ہیں کہ فضولیات میں مگن رہنے کا وقت نہیں ہے۔۔۔۔گلیوں اور بازاروں میں بیٹھ کر ٹائم پاس کرنے کا وقت نہیں ہے۔۔۔۔موبائلوں میں گیم کھیلنے کا وقت نہیں ہے۔۔۔۔ایک دوسرے کا حق مارنے کا وقت نہیں ہے۔۔۔۔۔عیش و عشرت کی زندگی گزارنے کا وقت نہیں ہے۔۔۔بلکہ یہ حالات ہمیں غور وفکر کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔۔۔۔اپنے حصّے کا کام کرنے کا وقت ہے۔۔۔ آج یہ سوچنے کا وقت ہے کہ ملک میں ہماری حیثیت کیوں محکومی اور غلامی کی ہے؟؟؟ہم کیوں آئے دن حکومت کی سازشوں کا شکار بنتے ہیں؟؟ آج یہ سوچنے کا وقت ہے کہ ملک سے ہماری پہچان کیوں مٹائی جارہی ہے، اور کیوں ہمیں مشرکانہ تہذیب اختیار کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔۔۔ اس وقت سارا کفر متحد ہوکر ہمارے سامنے کھڑا ہوچکا ہے لیکن اس کے خلاف ہماری کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے؟ آج یہ سوچنے کا وقت ہے کہ ہماری قیادتیں کیوں کمزور پڑچکی ہے؟ آخر ہم کب بیدار ہوں گے۔؟؟ خدارا۔۔۔۔۔اگر ہم نے اپنی زندگی میں ان ذمہ داریوں کو ادا نہیں کیا تو بروز محشر ہم اللّٰہ تعالیٰ کے سامنے مجرم کی حیثیت سے ضرور پیش کئے جائیں گے۔ پھر سوچئیے اس وقت ہم کونسا عذر لے کر رب کے سامنے حاضر ہوں گے؟؟؟ لہٰذا ضروری ہے کہ ظلمت کے ان اندھیروں میں ہم اپنے حصّے کا چراغ خود ہی روشن کرے۔۔۔ یہ اموات کا سلسلہ تو جاری رہے گا۔۔ کیونکہ موت اٹل ہے۔۔علماء و صالحین یوں دنیا سے رخصت ہوتے رہیں گے اگر ہم نے ان حالات سے سبق حاصل نہیں کیا تو کل ہمیں سبق دینے والا کوئی نہیں ہوگا۔*
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام فوت شدہ علماء کرام اور باوقار شخصیات کی مغفرت فرمائے۔ ان سب کو اپنی جوار رحمت میں جگہ د ے ،اللہ تعالیٰ ان سب سے راضی ہوجائے اور اس وقت امت مسلمہ جس صدمہ سے دوچار ہے اللہ تعالیٰ اس پر صبر جمیل کی توفیق دے اور اللہ تعالیٰ ان علماء و صالحین کی خلاء پُر کرنے کی توفیق عطا فرمائے،
_آمین یا رب العالمین_
22/04/2021