کتب بینی کا شوق

از قلم: مفتی مہتاب عالم قاسمی
استاذ :جامعہ اسلامیہ ناصحہ للبنات

کتاب ہماری ناصح ۔مشفق ۔مخلص اور بہترین معلم ہے ۔کتاب ہمیں دنیا کے نشیب وفرازسے واقف کراتی ہے ۔خطرات ومشکلات سے آگاہ کرتی ہے ۔زندگی کی دشواریوں اور تاریک راہوں میں ہماری رہنمائی کرکے ہمیں منزل مقصود تک پہنچاتی ہے ۔کتاب وہ خزانہ ہے جس کے ذریعہ ہم ان بزرگوں سے ملتے ہیں جو ہمارے لئے علم کی لازوال دولت محفوظ کرگئے ۔وہ بزرگ جنہوں نے دنیا کو دیکھااور آزمایاہے ۔جنہوں نے دنیا کی تلخیوں کے گھونٹ پئے ۔ملک ملک کی خاک چھانی ہے ۔فوانین قدرت کا مطالعہ کیا اور برسوں کے غور وخوض کے بعد فطرت کے درپردہ رازدریافت کئے ۔جنہوں نے تحقیق وتفتیش کے میدان میں سر ڈھڑکی بازی لگادی ہے ۔مشاہدات اور تجربات کے ذریعہ فلاح وبہبود کے راستے معلوم کئے ۔

کتاب ہماری سچی رفیق اور حقیقی دوست ہے ۔ہماری تنہائی میں مونس اور رنج وغم کی شریک ہے ۔یہ ایک مخلص دوست کی طرح ہے جوحضر۔ سفر میں ۔دن میں رات میں ہر وقت ہر جگہ اور ہر حال میں ہمارا ساتھ دینے کو تیار ہے ۔دنیا کا کونسا ایسا معاملہ ہے جس کے لئے ہم کتاب سے مدد نہ لے سکیں ۔کتاب ایک جام جہاں نماہے جو گھر بیٹھے ملک ملک کی سیر کراتی ہے ۔

کتابوں کے مطالعہ سے خیالات میں وسعت آتی ہے ۔دماغی قوت میں اضافہ ہوتاہے ۔دل ودماغ روشن ہوتے ہیں ۔زندگی کی کوئی بھی الجھن ہو کتایوں سے دور ہوجاتی ہے ۔کتاب وہ گلستاں ہے جس میں سدا بہار پھول کھلتے ہیں جو موسمی تغیر سے محفوظ ہوتے ہیں ۔

اس سدا بہار علمی چمن میں رنگ برنگے خوشنماہزاروں قسم کے پھل موجود ہیں اس کے ہر پھول میں نیارنگ اور ہر رنگ میں ایک نیا حسن ہے ۔اس کے ہر پھول میں ایک پھل اور ہر پھل میں بلا کا لطف اور ذائقہ ہے ۔یہ ہر خاص وعام کے لئے ہے اس کا کوئی وقت نہی یہ چمن ہر وقت کھلا رہتاہے جب جس وقت جو چاھے سیر کرسکتاہے ۔

کتاب ہماری رہبر اور ہادی ہے وہ بہترین نگراں بھی ہے اور اعلی معلم بھی ہے ۔غرض کہ کتاب دنیاکی ہر چیزسے آگاہ کرتی ہے ۔یہ ایسی ہمدرد اور رفیق ہے جو ہمیں زندگی کی ٹھوکروں سے بچاتی ہے اور راہ مستقیم دکھاتی ہے ۔کتاب ہماری بے لوث خدمت کرتی ہے ۔خود غرض دوستوں کی نہ منھ پر خوشامد نہ پیٹھ پیچھے برائی نہ میٹھی چھری بن کر ڈستی ہے بلکہ وفادار دوستوں کی طرح محو خدمت رہتی ہے ۔کتاب ہمیں آسمانوں کی سیر کراتی ہے کبھی زمینوں کے پوشیدہ حالات کی خبر دیتی ہے ۔کبھی فلک بوس پھاڑوں پر لے جاتی ہے کبھی سمندروں کی عمیق گہرائیوں میں لے جاتی ہے اور کبھی میدانوں میں دوڑاتی ہے وہ ماضی اور حال کا آئینہ ہے اور مستقبل کی کنجی ہے ۔
کتابوں کے انتخاب میں ہمیں بڑی ہوشیاری سے کام لیناچاھئے ۔ہر کتاب مطالعہ کے لیے اچھی نہی ہوتی ۔کتاب کو پرکھنے کے لئے عقل وفہم کی کسوٹی بڑی اہم ہے ۔بغیر اس کسوٹی کو پرکھے ہوئے کتابوں کا مطالعہ کرنابڑی نادانی ہے ۔اس کتاب کا مطالعہ کرناچاھئے جس سے دل ودماغ میں نیک اور شریفانہ خیالات کی تعمیر ہو ۔طلباء کو بھی کتاب کے انتخاب میں بڑی ہوشیاری سے کام لیناچاھئے ۔کتابوں کے ذوق اور انتخاب سے کسی کی طیبعت کا اندازہ بخوبی کیا جاسکتاہے ۔اچھے ذوق اور شوق والے لوگ اعلی قسم کی کتابیں پڑھتے ہیں ۔

مختصر یہ کہ ہم اچھی کتابوں کے پڑھنے کی عادت ڈالیں تو وہ یقینا ہماری بہترین معلم اور سچھی رہنما ہوسکتی ہے اسی لئے ہمیں ز یادہ تر تاریخی ۔سفر نامے دیگر ممالک کے حالات بلند پایہ شعرا کا کلام مشہور ادیب اور انشاء پردازوں کے مضامین کا مطالعہ اور ان سے نئے نتائج اخذ کریں تاکہ دنیامیں کامیاب اور آخرت میں سرخ روہوں

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading