کانگریس کی ناکامی سے مودی کی واپسی ؟

✍محمد عباس الازہری

ایگزٹ پول صحیح ہے "اب کی بار مودی سرکار ” کا نعرہ صحیح ہے۔ ۲۰۱۸ کا ایگزٹ پول دیکھیں جن میں کچھ صوبوں میں کانگریس کے بارے میں جیسا دیکھایا گیا ویسا ہی رزلٹ سامنے آیا اور 2014 بھی ایگزٹ پول صحیح ہوا تھا اور اب سوال یہ ہے کہ” این ڈی اے” کو کیوں زیادہ سیٹیں مل رہی ہیں؟تو اس کا جواب بہت تفصیل طلب ہے عنقریب اس پر روشنی ڈالوں گا لیکن مختصرا جواب یوں دیا جا سکتا ہے کہ اس میں” یوپی اے” یعنی کانگریس کی سراسر غلطی ہے کیونکہ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اس نے بطور اپوزیشن اپنی کمزوری کا مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے این ڈی اے کی ناکامیاں کما حقہ لوگوں تک نہیں پہنچ پائی !

اور جہاں مودی حکومت کو لگا کہ ہم اس مسئلہ پر شکست کھا سکتے ہیں وہاں دوسرا مسئلہ چھیڑ دیا جیسے جب اپوزیشن کی طرف سے "رافیل "کا مسئلہ اٹھایا تھا تب اس نے ” فوجیوں پر اٹیک اور ابھینندن کا مسئلہ چھیڑ دیا اور سب لوگ اس کو چھوڑ اس کے بارے میں بحث کرنے لگے اور سب سے زیادہ میڈیا پر پیسے مودی حکومت نے کی جبکہ این ڈی اے اس کے مقابلے میں کچھ بھی خرچ نہیں کیا یہ سبھی کو معلوم ہے کہ میڈیا تجارت اور کاروبار ہے جو ان کو ایڈ دے گا اسی کی خبریں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے منظر عام پر لائیں گے ! اور کانگریس نےصوبائی سیکولر پارٹیوں سے سے اتحاد نہیں کیا جس کی وجہ سے بہت سارے سیکولر اور مسلم و دلت ووٹ تقسیم ہو گئے! اور دوسری طرف این ڈی اے کو آر ایس ایس اور ہندتوا کے نام پر سب ووٹ مل گئے!

سب سے اہم بات یہ ہے کہ” ای وی ایم ” یعنی اس مشین میں بہت سی جگہوں پر ہیرا پھیری کی گئی جس کی وجہ سے ایک طرفہ ووٹ این ڈی اے کو مل گیا جیسا کہ کچھ اپوزیشن کے لیڈران کا کہنا ہے! بہر حال جو بھی ہو لیکن ووٹوں کی تقسیم اور میڈیا کی خصوصی توجہ اہم وجہ ہے اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین میں تبدیلی اس کے بعد ہے ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading