کانگریس کی میٹنگ میں ناندیڑ سے مسلم امیدوار کو اسمبلی کا ٹکٹ دینے کی قرار داد منظور

ناندیڑ۔14 اکتوبر ( نامہ نگار ):ناندیڑ شہر اور ضلع کانگریس کمیٹی شعبہ اقلیت کی جانب سے آئندہ اسمبلی انتخابات میں ناندیڑ شہر سے کسی ایک نشست پر کسی ایک مسلم کانگریس امیدوار کو ٹکٹ دینے کے لیے ایک اہم ترین اجلاس شہر کے پاکیزہ فنکشن ہال دیگلورناکہ ناندیڑ میں منعقد ہوا تھا۔ اجلاس کی صدارت کانگریس کے سینئر لیڈر و معروف قانون داں ایڈوکیٹ ایم زیڈ صدیقی نے فرمائی۔

اس اجلاس میں ناندیڑ جنوب کے ایم ایل اے موہن ہمبرڈے، حدگاﺅں حمایت نگرحلقہ کے رکن اسمبلی مادھو راﺅ جوڑ گاﺅنکر،کانگریس کے ضلع صدر ہنمنت پاٹل بیٹ موگرے کر، شہر صدر عبدالستار، کانگریس کمیٹی اقلیتی شعبہ کے ریاستی نائب صدر مسعود احمد خان، عبدالسلام چاول والا،ضلع کارگذار صدر شمیم عبداللہ،پپو پاٹل کونڈیکر، ناندیڑ کے سابق رکن پارلیمنٹ وسنت چوہان کے فرزند رویندر چوہان، سابق ڈپٹی میئر آنند چوہان، شفیع احمد قریشی، عبدالغفار،ایس سی شعبہ کے ضلع صدر سریش ہٹکر، ایڈوکیٹ عبدالرحمن صدیقی،ریاستی سیکریٹری سید شیر علی ‘ اقلیتی شعبہ کے ضلع صدر رحیم احمد خان، شہر صدر عبدالعزیز قریشی، شئہ نشین پر موجود تھے۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض سابق کارپوریٹر و پارٹی کے ترجمان منتجب الدین نے انجام دیئے۔ اجلاس کے آغاز پر سید شیر علی نے اغراض و مقاصد بیان کئے۔ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ایڈوکیٹ عبدالرحمن صدیقی نے کہا کے مسلم طبقہ ہمیشہ ہی کانگریس کا ساتھ دیتا آیا ہے مگر مسلمانوں کو ٹکٹ نہیں دیا جارہا ہے۔

اس بار اسمبلی میں ناندیڑ سے کسی مسلم لیڈر کو ٹکٹ نہیں ملتا ہے تو کوئی بھی مسلم کانگریسی لیڈر سماج کے ووٹ دلوا نہیں سکتا۔ شفیع احمد قریشی نے اپنے خطاب میں کہا کے مسلم سماج ہمیشہ چاہتا ہے کہ اسمبلی میں بھی ان کی نمائندگی ہو اس کے لیے کئی عرصہ سے کوشش کی جارہی ہے۔ پچھلے لوک سبھا انتخابات میں بھی وسنت چوہان کو مسلمانوں نے اکثریت سے ووٹ دیئے تھے ۔ اب ۹ اسمبلی حلقوں میں کسی ایک حلقہ سے مسلم امیدوار کو ٹکٹ دینا چاہیے۔ اس جلسہ سے قندہار کے عظیم الدین، بلولی کے ولی الدین فاروقی، حمایت نگر کے الحاج عبدالصمد ، رمیش گوڑ بولے نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کے اس بار اسمبلی انتخاب میں کانگریس پارٹی کو چاہیے کہ وہ مسلم امیدوار کو ناندیڑ شہر کے کسی ایک حلقہ سے ٹکٹ دیں اور کہا کے اب مسلمان ایم ایل سے کے چاکلیٹ کا شکار نہیں ہوگا کسی بھی صورت میں ناندیڑ سے مسلم امیدوار کو ٹکٹ دینا چاہیے۔

اس اجلاس میں ضلع صدر ہنمنت پاٹل بیٹ موگرے کر نے کہا کے انہوں نے سابق میں بھی پردیش کانگریس کمیٹی کو اس تعلق سے آگاہ کیا ہے اور آگے بھی وہ اس کے لیے نمائندگی کریں گے۔ وہ خود مسلمانوں کو ایم ایل سی بنانے کے حق میں نہیں بلکہ ٹکٹ دے کر ایم ایل اے بنانا چاہتے ہیں۔ رکن اسمبلی موہن ہمبرڈے اور جوڑگاﺅنکر نے بھی اپنے خطاب میں کہا کے وہ بھی کسی ایک مسلم لیڈر کو ٹکٹ دینے کے حق میں اور اس کی بھر پور تائید کرتے ہیں۔سابق ایم پی آنجہانی وسنت چوہان کے فرزند پروفیسر رویندر چوہان نے خطاب کرتے ہوے کہا کے پچھلے لوک سبھا میں ناندیڑ کے مسلمانوں نے ریکارڈ توڑ ووٹنگ کر کے ان کے والد کو کامیاب کیا تھا جس کے لیے وہ تمام مسلم برادری کے شکر گذار ہے۔ کانگریس کے ساتھ آج مسلمان پوری طاقت سے کھڑا ہے اس لیے میں بھی پارٹی کے اعلیٰ قائدین کو ان کے جذبات سے آگاہ کرتے ہوئے مسلم امیدوار کو ٹکٹ دینے کے لیے نمائندگی کروں گا۔ اس اجلاس میں شعبہ اقلیت کی طرف سے یہ قرار داد پیش کی گئی کہ ناندیڑ شہر کے کسی ایک اسمبلی حلقہ سے کسی ایک مسلم امیدوار کو کانگریس پارٹی اس بار اسمبلی الیکشن میں ٹکٹ دیں اور کامیاب بنانے کے لیے ہم وطن بھائیوں کے ووٹ دلوانے کے لیے بھی کوشش کریں۔ اس قرار داد کی تمام ہی کانگریس پارٹی کے قائدین نے تائید کی اور اجلاس میں موجود حاضرین نے بھی ہاتھ اٹھا کر تائید کا اعلان کیا ۔

تمام کی دستخطیں لے کر قرار داد کو ممبئی کانگریس کمیٹی کے دفتر روانہ کیا جائے گا۔ صدارتی خطاب میں ایڈوکیٹ ذوالفقار الدین صدیقی نے کہا کے ۰۸۹۱ میں ان کے دوست کریم صدیقی صاحب کو کانگریس پارٹی نے ٹکٹ دیا تھا اس کے بعد سے آج تک کانگریس پارٹی نے کسی بھی مسلم امیدوار کو ناندیڑ سے ٹکٹ نہیں دیاہے ۔مسلمانوں نے ہمیشہ ہی کانگریس کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔ الیکشن آتے ہی کانگریس کے کچھ قائدین کہتے ہیں کہ مسلمان پہلے ایک ہو جائیں یہ بات غلط ہیں پارٹی جس کسی مسلم نمائندے کو اپنا امیدواربناتی ہے تو ناندیڑ کے مسلمان اسے بھاری اکثریت سے کامیاب کریں گے کیونکہ آج تک دوسروں کو اکثریت سے ووٹ دے کر کامیاب کرتے آئے ہیں مگر اس بار مسلمان اپنے حق کے لیے لڑ رہا ہے۔

 

ہمارے پاس کئی امیدوار موجود ہے جو ہر لحاظ سے تیار ہیں۔ پارٹی اس بار انصاف کرتے ہوئے مسلم امیدوار کو ٹکٹ دیں و ہ ضرور کامیاب ہوگا۔ پروگرا م میں ناندیڑ ضلع بھر سے بڑی تعداد میں کانگریس پارٹی کے ذی اثر لیڈرس ، سابقہ کونسلرس، سابقہ کارپوریٹرس، تعلقہ جات کے صدر ، ذمہ داران کثیر تعداد میں موجود تھے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading