جنوب مشرقی چین کے ساحلی شہر کوانژو میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے قرنطینہ مرکز میں تبدیل کیا جانے والا ایک پانچ منزلہ ہوٹل منہدم ہوگیا ہے جس کی وجہ سے کم از کم 70 افراد ملبے تلے پھنس گئے ہیں۔
چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق یہ واقعہ سنیچر کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً ساڑھے سات بجے پیش آیا۔ ’بیجنگ نیوز‘ کی جانب سے پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جائے وقوع پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور لوگوں کو ملبے سے نکال کر ایمبولینسوں کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کوانژو میونسپیلٹی نے بتایا ہے کہ عمارت منہدم ہونے کے دو گھنٹے بعد تک 34 افراد کو ملبے سے نکالا جا چکا ہے۔
سوشل میڈیا ایپ ’میاوپائی‘ پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں ایک عینی شاہد نے بتایا ہے کہ ’میں گیس سٹیشن پر تھا کہ اچانک ایک زوردار آواز آئی۔ میں نے اوپر دیکھا تو پوری عمارت منہدم ہوگئی۔ ہر طرف دھول ہی دھول تھی اور شیشوں کے ٹکڑے چاروں طرف اڑ رہے تھے۔‘
عینی شاہد نے مزید کہا کہ ’میں اتنا ڈر گیا تھا کہ میرے ہاتھ اور میری ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔‘
چن نامی ایک خاتون نے بیجنگ نیوز ویب سائٹ کو بتایا ہے کہ کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے چینی صوبے ہوبائی سے واپسی پر ان کی بہن اور دیگر رشتے داروں کو اس قرنطینہ مرکز میں رکھا گیا تھا۔