چلچلاتی گرمی سے نجات کے لیے مانسون کی آمد، دو دن پہلے کیرالہ میں دستک دی

دہلی: پورا شمالی ہندوستان گرمی سے جھلس رہا ہے۔ شدید گرمی سے راحت کی خبر آگئی ہے۔ جی ہاں، کیرالا میں مانسون پہنچ چکا ہے۔ آئی ایم ڈی نے باضابطہ طور پر اس کا اعلان کیا۔ کیرالا میں مانسون وقت سے دو دن پہلے پہنچ گیا ہے۔ کیرالا کے کئی شہروں میں شدید بارش ہوئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ سمندری طوفان ریمل کی وجہ سے جمعرات کو جنوب مغربی مانسون کیرالاکے ساحل اور شمال مشرق کے کچھ حصوں میں وقت سے پہلے پہنچ گیا۔

محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی تھی کہ مانسون یکم جون کو آئے گا۔ لیکن مانسون پیشین گوئی سے دو دن پہلے پہنچ گیا۔ مانا جا رہا ہے کہ مانسون 30 جون تک دہلی۔این سی آر میں پہنچ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ 5 جون تک مہاراشٹر تک پہنچنے کا امکان ہے۔

ماہرین موسمیات کے مطابق طوفان نے مانسون کے بہاؤ کو خلیج بنگال کی طرف کھینچ لیا۔ یہ شمال مشرق میں مانسون کی قبل از وقت آمد کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔ سمندری طوفان ریمل اتوار کو مغربی بنگال اور بنگلہ دیش کے ساحل سے ٹکرایاتھا۔ جس کی وجہ سے بنگال سے بنگلہ دیش تک موسلادھار بارش ہوئی اور کئی لوگوں کی جانیں بھی گئیں۔

آئی ایم ڈی کے مطابق، جنوب مغربی مانسون کیرالا پہنچ چکا ہے اور آج یعنی 30 مئی 2024 کو شمال مشرقی ہندوستان کے بیشتر حصوں کی طرف بڑھ گیا ہے۔ کیرالا میں پچھلے کچھ دنوں سے شدید بارش ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں مئی میں زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ کیرالا میں مانسون کی آمد کی عام تاریخ یکم جون ہے اور اروناچل پردیش، تریپورہ، ناگالینڈ، میگھالیہ، میزورم، منی پور اور آسام میں مانسون کی آمد کی تاریخ 5 جون ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ بہار، جھارکھنڈ اور بنگال سمیت شمال مشرقی ہندوستان میں گرمی سے جلد ہی راحت ملے گی۔

کیرالا کے کن اضلاع میں ریڈ الرٹ؟

آئی ایم ڈی نے مانسون کے حوالے سے الرٹ بھی جاری کیا ہے۔ آئی ایم ڈی نے کیرالا کے سات اضلاع میں اورنج الرٹ جاری کیا ہے۔ مانسون کی وجہ سے کیرالا میں موسلادھار بارش جاری ہے۔ اس کی وجہ سے دارالحکومت ترواننت پورم سمیت بڑے شہروں میں پانی بھر گیا ہے۔

سات اضلاع میں الرٹ جاری کیا گیا تھا جن میں ترواننت پورم، کولم، پٹھانمتھیٹا، الاپپوزا، کوٹائم، ایرناکولم اور اڈوکی شامل ہیں۔ جون اور جولائی زراعت کے لیے مانسون کے سب سے اہم مہینے تصور کیے جاتے ہیں کیونکہ خریف کی فصلوں کی زیادہ تر بوائی اسی عرصے میں ہوتی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading