پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن قومی اسمبلی اور معروف ٹی وی اینکر ڈاکٹر عامر لیاقت حسین 49 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
ڈی آئی جی شرقی مقدس حیدر نے عامر لیاقت کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ رکن اسمبلی کی رات میں طبیعت بگڑ گئی تھی اور آج صبح حالت زیادہ خراب ہونے پر ان کو آغا خان ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹرز نے ان کی موت کی تصدیق کردی۔
انہوں نے کہا کہ عامر لیاقت کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے جناح ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما جمال صدیقی کا کہنا ہے کہ عامر لیاقت کے ملازم نے ان کے موت کی خبر دی۔ ہسپتال انتظامیہ نے بھی اس خبر کی تصدیق کردی ہے جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم کے بعد ہی عامر لیاقت کے موت کا سبب پتہ چلے گا۔
پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اُنھیں طبیعت کی خرابی پر ہسپتال لے جایا گیا تاہم ڈاکٹروں کے مطابق وہ ہسپتال لائے جانے کے وقت مردہ حالت میں تھے۔
پولیس حکام اس خبر کے بعد اُن کے گھر پہنچ گئے۔ اس موقع پر حکام کا کہنا تھا کہ اُن کی موت کی یقینی وجہ فی الحال نہیں بتائی جا سکتی اور اس کے تعین کے لیے پوسٹ مارٹم کروایا جائے گا۔ اُن کی میت کو کراچی کے جناح ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے چھیپا کے ایک اہلکار جنھوں نے عامر لیاقت کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی نے کہا کہ ’جس وقت میں اندر پہنچا تو عامر لیاقت صوفے پر پڑے ہوئے تھے، اور ان کی حالت ناساز تھی لیکن ان کی سانسیں چل رہی تھیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’تقریباً ایک بجے کا وقت تھا، انھیں جناح ہسپتال لے جایا جا رہا تھا جس کے بعد راستے میں ہی کال آئی کہ انھیں آغا خان لے جایا جائے۔‘
یاد رہے کہ حالیہ چند دنوں میں وہ اپنی تیسری شادی کے حوالے سے پیدا ہونے والے تنازعے کی زد میں تھے، جس کے بعد انھوں نے ملک چھوڑنے کا اعلان بھی کیا تھا۔
ان کی وفات کے باعث قومی اسمبلی کا آج ہونے والا اجلاس کل شام پانچ بجے تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری نے اُن کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
نئی صدی کے اوائل میں مذہبی ٹی وی پروگرام ’عالم آن لائن‘ سے شہرت پانے والے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے سنہ 2018 میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر انتخاب جیت کر قومی اسمبلی میں نشست حاصل کی تھی۔
عامر لیاقت حسین نے سنہ 2002 کے عام انتخابات میں بھی ایم کیو ایم کی ٹکٹ پر قومی اسمبلی کی نشست پر کامیابی حاصل کی اور انھیں پرویز مشرف کے دور حکومت میں مذہبی امور کا وزیر بنایا گیا۔
جولائی 2007 میں عامر لیاقت حسین نے قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ان کا یہ استعفیٰ اس وقت سامنے آیا جب انھوں نے انڈین مصنف سلمان رشدی کو ٹی وی پروگرام میں ’واجب القتل‘ قرار دیا تھا۔ اگلے سال یعنی سنہ 2008 میں ایم کیو ایم نے عامر لیاقت کو پارٹی سے نکالنے کرنے کا اعلان کیا تھا۔
عامر لیاقت حسین نے ایک طویل عرصے تک سیاست سے کنارہ کشی اختیار کی اور سنہ 2016 میں ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کی متنازع تقریر سے چند روز قبل وہ دوبارہ سرگرم ہوئے۔
جب 22 اگست 2016 کو رینجرز نے ڈاکٹر فاروق ستار اور خواجہ اظہار الحسن کو حراست میں لیا تو عامر لیاقت کو بھی اسی روز گرفتار کیا گیا تھا اور رہائی کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار کی پہلی پریس کانفرنس میں وہ بھی موجود تھے لیکن بعد میں دوبارہ غیر متحرک ہو گئے۔
عامر لیاقت حسین کی تحریک انصاف میں شمولیت کی خبریں سنہ 2017 میں سامنے آئی تھیں۔ ان کی اپنی ٹویٹس کے باوجود اعلان سامنے نہیں آیا تھا مگر بالاخر وہ پارٹی میں شامل ہو گئے تھے۔پارٹی میں شمولیت کے وقت بھی عامر لیاقت کو پی ٹی آئی کے کچھ حامیوں کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
سنہ 2018 میں عامر لیاقت حسین نے عمران خان کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا تھا تو انھوں نے کہا تھا کہ ’میرا آخری مقام پی ٹی آئی تھا۔‘ وہ سنہ 2018 کے انتخابات میں این اے 245 سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

عامر لیاقت کا پاکستانی میڈیا میں کریئر
عامر لیاقت حسین پاکستان کے تقریباً ہر بڑے نیوز چینل سے وابستہ رہے ہیں اور ان کے پروگرام زیادہ تر تنازعات سے بھرپور رہے ہیں جس کے اثرات ان کے سیاسی کریئر پر بھی پڑے۔
پاکستان کے میڈیا گروپ جنگ پبلیکیشن نے جب اپنے نیوز چینل جیو کا آغاز کیا تو عامر لیاقت بطور نیوز کاسٹر سامنے آئے، اس کے بعد انھوں نے عالم آن لائن کے نام سے ایک مذہبی پروگرام شروع کیا۔
ایک پروگرام میں انھوں نے احمدی کمیونٹی کو غیر مسلم قرار دیتے ہوئے ان کا قتل جائز قرار دیا تھا، اسی ہفتے سندھ میں احمدی کمیونٹی کے دو افراد ہلاک ہوئے، ان کے اس بیان پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تنقید کی تھی۔
جہاد اور خودکش حملوں کے حوالے سے ان کے متنازع بیانات پر کچھ مذہبی حلقے ان سے ناراض بھی رہے۔ سنہ 2005 میں جامعہ بنوریہ کے ایک استاد کی ہلاکت پر جب وہ تعزیت کے لیے پہنچے تھے تو اُنھیں طلبہ نے یرغمال بنا لیا تھا۔
عامر لیاقت جیو کے علاوہ اے آر وائی، ایکسپریس، بول ٹی وی اور 24 نیوز سے وابستہ رہے، رمضان کی خصوصی نشریات کے دوران وہ ہاٹ پراپرٹی تصور کیے جاتے تھے۔ جیو پر رمضان ٹرانسمیشن کے ایک پروگرام میں انھوں نے چھیپا فاؤنڈیشن کے سربراہ رمضان چھیپا سے ایک لاوارث بچہ لے کر ایک جوڑے کو دیا تھا جس وجہ سے بھی انھیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
رمضان ٹرانسمیشن کے پروگرام ’انعام گھر‘ میں ان کے بعض جملے اور حرکات کو بھی ناپسندیدگی سے دیکھا جاتا تھا، پاکستان الیکٹرانک میڈیا اتھارٹی نے سنہ 2016 میں اس پروگرام کو تین روز کے لیے روک دیا تھا۔
بول چینل پر ان کے پروگرام ’ایسا نہیں چلے گا‘ میں انھوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں، صحافیوں اور بلاگرز پر ذاتی حملے بھی کیے، پیمرا نے شہریوں کی شکایات پر یہ پروگرام بند کر دیا اور انھیں عوام سے معذرت کی ہدایت جاری کی۔