مہاراشٹر کے پونے میں سوارگیٹ بس اسٹینڈ پر ایک خاتون کے ساتھ عصمت دری معاملہ میں کارروائی کی گئی ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ نے ڈیپو کے 23 سیکورٹی گارڈس کو فوری اثر سے معطل کر دیا ہے۔ مہاراشٹر کے وزیر برائے ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائک نے معطلی کا حکم جاری کیا ہے۔ انھوں نے نئے سیکورٹی گارڈس کو جمعرات یعنی 27 فروری سے کام پر آنے کا بھی حکم دے دیا ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ عصمت دری کا ملزم فرار ہے اور اس کی تلاش کی جا رہی ہے۔ اس معاملے میں ڈپو منیجر اور ٹریفک کنٹرولر سے پوچھ تاچھ بھی کی جائے گی اور ایک ہفتہ کے اندر جانچ کی رپورٹ پیش ہوگی۔ یہ رپورٹ ٹرانسپورٹ کمشنر کو سونپنے کے بعد کارروائی سے متعلق کچھ بڑے فیصلے لیے جائیں گے۔ پونے عصمت دری معاملے میں پرتاپ سرنائک نے جمعرات کی دوپہر 12.30 بجے میٹنگ بھی طلب کی ہے۔
مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار نے اس شرمناک واقعہ پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’پونے کے سوارگیٹ بس اسٹینڈ پر ہماری بہن کے ساتھ عصمت دری کا واقعہ مہذب سماج کے ہر رکن کے لیے بے حد شرمناک، دردناک اور مشتعل کرنے والا ہے۔ ریاستی حکومت یہ یقینی کرنے کے لیے سبھی ضروری قدم اٹھائے گی کہ ملزم کو سخت سے سخت سزا ملے۔ یہ میں مہاراشٹر کے سبھی بھائیوں، بہنوں اور ماؤں کو یقین دلاتا ہوں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ وزیر برائے ترقیٔ خواتین و اطفال اور ریاستی خاتون کمیشن کی صدر کو بھی متاثرہ کو انصاف، نفسیاتی مدد اور ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
اس درمیان پونے عصمت دری واقعہ پر شیوسینا یو بی ٹی لیڈر وسنت مورے نے پارٹی کے دیگر لیڈران کے ساتھ سوارگیٹ بس اسٹینڈ پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ وسنت مورے نے ریاستی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’جو حادثہ یہاں پیش آیا ہے، وہ سیکورٹی کیبن کے سامنے ہوا۔ اگر کسی خاتون کے ساتھ سیکورٹی کیبن کے سامنے عصمت دری ہوتی ہے تو کسی کو بھی وہاں بیٹھنے کا حق نہیں ہے۔‘‘