مالیگاؤں، 17 مئی ۔ بقرعید کے پیش نظر مالیگاؤں پولیس نے شہر میں گائے ذبیحہ قانون پر سختی سے عمل درآمد کرنے کے لیے ایک جامع ایکشن پلان تیار کیا ہے۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ ناسک دیہی و کرم دیشمانے کی نگرانی اور ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس تیکبیر سنگھ سندھو و ڈی وائے ایس پی سورج گنجال کی سرپرستی میں یہ پلان تشکیل دیا گیا ہے، جس کے تحت مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کی جا رہی ہے۔
خصوصی اسکواڈ کی تشکیل
پولیس نے بقرعید کے دوران غیر قانونی ذبیحہ اور مویشیوں کی غیر قانونی نقل و حمل پر قابو پانے کے لیے ایک خصوصی اسکواڈ تشکیل دیا ہے۔ اس اسکواڈ میں ایک پولیس افسر اور چار ملازمین شامل ہیں، جو شہر بھر میں گھر گھر جا کر مویشی پالنے والوں سے متعلق سروے کریں گے اور ان سے جانوروں کی ملکیت کے دستاویزات طلب کیے جائیں گے۔
جرائم پیشہ افراد کی فہرست تیار
پولیس نے مالیگاؤں شہر اور کیمپ حدود میں گائے ذبیحہ قانون کے تحت ماضی میں دو یا زائد جرائم میں ملوث 175 افراد کی فہرست تیار کی ہے۔ ان میں سے کچھ مجرموں کے خلاف شہر بدری (تری پار) کی کارروائی کی جا چکی ہے۔ شہر بدر کیے جانے والے افراد میں فاروق خان فیض اللہ خان، سعید خان اقبال خان عرف سعید عطادی، آصف خان دستگیر خان عرف آصف وائر مین، اور شیخ الیاس شیخ جہانگیر قریشی شامل ہیں۔
ضبطیاں اور قانونی کارروائیاں
1 اپریل سے 14 مئی 2025 کے دوران پولیس نے مویشیوں کی غیر قانونی نقل و حمل اور ذبیحہ کے لیے شہر لائے جانے والے جانوروں کے خلاف ایک خصوصی مہم چلائی، جس کے دوران تقریباً 1 کروڑ 6 لاکھ 45 ہزار 800 روپے مالیت کے جانور اور اشیاء ضبط کی گئیں۔
آوارہ مویشیوں پر کارروائی
پولیس اور مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن نے مشترکہ طور پر شہر میں آوارہ و لاوارث مویشیوں کے خلاف بھی کارروائی کی، جس کے تحت 45 مویشیوں کو پکڑ کر پانجرہ پل گئو شالہ منتقل کیا گیا، جہاں ان کے لیے چارہ، پانی اور طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
مستقبل کی حکمت عملی
پولیس کا کہنا ہے کہ اگر بقرعید کے بعد یہ ثابت ہوا کہ کسی نے جان بوجھ کر اپنے مویشیوں کو ذبح کیا ہے، تو اس کے خلاف "کیل بریڈنگ ایکٹ” کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ پولیس کی یہ کارروائی مستقبل میں بھی جاری رہے گی تاکہ گائے ذبیحہ قانون کی مکمل پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔
ایڈیشنل ایس پی تیکبیر سنگھ سندھو اور ڈی وائے ایس پی سورج گنجال نے اپنی پریس بریفنگ میں واضح کیا کہ مالیگاؤں میں قانون کی خلاف ورزی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔