پولیس لائن مسجد میں پابندی کے باوجود نماز پڑھنے پر ایم آئی ایم کے تین لیڈران کے خلاف سنگین دفعات میں معاملہ درج

پرتاپ گڑھ (یواین آئی) اترپردیش میں ضلع پرتاپ گڑھ کے تھانہ سٹی کوتوالی پولیس نے پولیس لائن واقع مسجد میں پابندی کے باوجود جمعہ کو نماز پڑھنے کے معاملے کی ہفتہ کو اے آئئ ایم آئی ایم کے تین لیڈران کے نامزد و دیگر نامعلوم کے خلاف دفعہ بی 147،149،332،153 و 504 اور مذہبی منافرت پھیلانے کے الزام میں معاملہ درج کیا ۔

ایڈیشنل پولیس سپرنٹنڈنٹ مشرقی سریندر دیویدی نے بتایا کہ پولیس لائن مسجد میں بغیر اجازت کے کسی باہری شخص کے نماز پڑھنے پر روک ہے ۔جمعہ کو پابندی کے باوجود جبرا نماز پڑھنے کیلئے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے لیڈر اسرار احمد ، شجاعت اللہ ایڈوکیٹ و ظفرالحسن ایڈوکیٹ مع حامیوں کے پولیس لائن میں گھس گئے تھے

۔تھانہ سٹی کوتوالی پولیس نے پولیس لائن آرآئی شیلیندر سنگھ کی شکایت پر اے آئی ایم آئی ایم لیڈر اسرار احمد ، شجاعت اللہ ایڈوکیٹ و ظفرالحسن ایڈوکیٹ سمیت تین نامزد اور دیگر نامعلوم کے خلاف سنگین دفعات میں معاملہ درج کیا ہے ۔جبکہ اے آئی ایم آئی ایم لیڈر ظفرالحسن ایڈوکیٹ کے بموجب پولیس لائن مسجد میں انگریزوں کے زمانہ سے نماز پڑھی جارہی ہے ۔موجودہ پولیس سپرنٹنڈنٹ ابھشیک نے تفریق کی بنیاد پر جمعہ سے مسجد میں نماز پڑھنے پر پابندی عائد کر دی ہے ۔جمعہ کو نماز پڑھنے جاتے وقت پولیس نے روکا تو ہم لوگوں نے مزاحمت کی۔انہوں نے کہا کہ پابندی کے خلاف مزاحمت جاری رہے گی ۔واضح رہے کہ کل جمعہ کو پہلی مرتبہ پولیس لائن مسجد میں نماز پڑھنے سے روک دیا گیا ہے ۔جس پر اے آئی ایم آئی ایم و سماج وادی پارٹی اور دیگر لوگوں کو اعتراض ہے ۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading