پونے، 24 مئی (یواین آئی) ہندوستان میں ابھی تک بلیک فنگس کے 8،000 سے زیادہ معاملے رپورٹ ہوئے ہیں اور ملک میں اس بیماری کا تخمینہ پھیلاؤ عالمی اوسط سے تقریبا 70 گنا زیادہ ہے، جبکہ اموات میوکومرکوسس (بلیک فنگس) سے 50 فیصد تک ہے۔
فیڈریشن آف ہوسپیٹلز ایڈمنسٹریٹرز کے ایگزیکٹو رکن ڈاکٹر نریش پروہت نے بتایا کہ”کورونا سے لاحق خطرات کے درمیان بلیک فنگس” کے موضوع پر ویبنار سے خطاب کے بعد یہاں یواین آئی کو بتایا کہ خراب اسپتال کا نظام امیونوکمپرامائزڈ کورونا مریضوں اور ملک میں انفیکشن سے بچنے والوں کے درمیان بلیک فنگس کے معاملوں میں اضافہ کے اہم وجوہات میں سے ایک ہوسکتی ہیں۔
ویبنار پیر کو مہاراشٹر یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز، ناسک نے منعقد کیا تھا۔وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر پروہت نے متنبہ کیا کہ رائجوپس ایریزس اس ملک میں بلیک فنگس کا سب سے عام ایجنٹ ہے۔ یہ انفیکشن فنگس جاتیوں جیسے ریزوپوس مائکروسپورس ، ریزوپس ہومو ہالیکس اور ایپوفیسومیس ویرابیلس کی وجہ سے بڑھ رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ میں نے صحت سے متعلق حکام سے معاملات کے انتظام کے لئے سہولیات بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ہندوستان میں متعدد ریاستیں پہلے ہی اس بیماری کی اطلاع دے چکی ہیں۔