اہم قانونی نکات پر بڑا فیصلہ آنے کی امید
ممبئی۔27؍نومبر ( پریس ریلیز)پربھنی سے آئی ایس آئی ایس سے تعلق کے الزام میں گرفتار ۴؍ مسلم نو جوان ناصر یافعی و دیگر کے مقدمہ کی سماعت ممبئی ہائی کورٹ میں مناسب سماعت نہ ہونے کی بناء پر تفتیشی ایجنسیوںکی دھاندلیوںو دیگر اہم قانونی نکات پر مشتمل جمعیۃ علماء مہا راشٹر نے سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی ہے جس کی ڈائری نمبر 44098/2018 ۔ناصر یافعی و دیگر بنام حکومت مہا راشٹر ہے، جس کی بنیاد پر اہم فیصلہ آنے کی امید کی جا رہی ہے ،اس بات کی اطلاع آج یہاں جمعیۃ علماء مہا راشٹر کے لیگل سکریٹری و سینر کریمنل لائر ایڈوکیٹ پٹھان تہور خان نے دی ہے ۔ واضح ہو کہ پربھنی سے داعش سے تعلق کے الزام میں گرفتار کئے گئے ناصر یافعی پر مہاراشٹر اے ٹی ایس نے یو اے پی اے کے تحت معاملہ درج کیا تھا،اس مقدمے کی پیروی جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے سینئر کریمنل وکیل ایڈوکیٹ تہور خان پٹھان کرہے ہیں۔ ان کے مطابق ملزم پر جس قانون کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں وہ سینٹرل گورنمنٹ کے بنائے ہوئے ہیں، ایسے میں اس مقدمے کے تعلق Cognizance ( مقدمے کے بارے میں یہ فیصلہ لینا کہ واقعی یہ جرم وقوع پذیر ہوا ہے اور یہ قابلِ سماعت ہے یا نہیں) لینے کا اختیار بھی انہیں عدالتوں کو ہے جو یو اے پی اے قانون کے تحت مرکزی یا ریاستی حکومت کے ذریعے خصوصی طور ایسے مقدمات کے لئے قائم کئے گئے ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ بدقسمتی سے اس پورے معاملے میں ملزم کی گرفتاری کے بعد سے یو اے پی اے قانون کے تحت دی گئی واضح ہدایتوں کی خلاف ورزی کی گئی اور ملزم کو ریمانڈ سے لے کر فردِ جرم عائد کئے جانے تک اس کورٹ میں پیش کیا جاتا رہا جسے اس مقدمے کی Cognizance لینے کا ہی اختیار نہیں ہے۔اس کے با وجود اسے کئی مہینوں سے التواء میں ڈال دیا گیا تھا۔ ایڈوکیٹ پٹھان تہور خان نے مزید کہا کہ معاملہ جب مر کزی تفتیشی ایجنسی این آئی اے کے سپرد کیا جا چکا ہے،بلکہ ایف آئی آرکا ری رجسٹریشن اور این آئی اے کے انوسٹی گیشن آفیسرمقرر ہونے کے بعد بھی مہا راشٹر اے ٹی ایس نے اپنے طور پرمجسٹریٹ کے کورٹ میں چارج شیٹ داخل کی ہے ،جس کی قانون کی نظر میںقطعا اہمیت نہیں ہے اور وہ کسی بھی صورت میں چارج شیٹ کے طور پر قبول نہیں کی جا سکتی ہے۔دیگر معلومات دینے سے انکار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چو نکہ معاملہ انتہائی سنگین ہے جو اہم ترین قانونی نکات پر مشتمل ہے ،سپریم کورٹ میںزیر بحث ہو نے کی وجہ سے پورے طور پر واضح کر نا مناسب نہیں ہوگا۔ اس موقع پر مو لانا حافظ محمد ندیم صدیقی ( صدر جمعیۃ علماء مہا راشٹر)نے کہا کہ نا صر یافعی کیس کی طرح ریاست میں دہشت گردی کے الزام میں جتنے مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا ہے ، ان میں سے بیشتر کے مقدمات میں اے ٹی ایس کی جانب سے اس طرح کی دھاندھلی ہوئی ہے ، اور اس دھاندھلی کی بنیاد پر لوگ برسوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں اگر ان تمام مقدمات کا باریک بینی سے مطالعہ کیا جائے تو اس میں اے ٹی ایس کی دھاندھلی بے نقاب ہوسکتی ہے ،اس لئے ہماری لیگل ٹیم اس معاملہ کو سپریم کورٹ لے گئی ہے تاکہ جلد از جلد یہ کیس حل ہو سکے اور ملز مین کو انصاف مل سکے ۔