پربھنی کے ناصر یافعی داعش معاملہ میں این آئی اے کا ٹال مٹول رول

ممبئی۔8 فروری(ورق تازہ نیوز)پربھنی سے آئی ایس آئی ایس سے تعلق کے الزام میں گرفتار ۴ مسلم نو جوان ناصر یافعی و دیگر کے مقدمہ کی سماعت سپریم کورٹ میں برق رفتاری سے جاری ہے ، این آئی اے کے پاس خاطر خواہ جواب نہ ہونے کی وجہ سے جواب فائل کرنے میں تاخیر اور ٹال مٹول کا رویہ اپنا رہی ہے آج سماعت کے دوران این آئی اے نے ایک بار پھر عدالت عالیہ سے جواب داخل کرنے کے لئے مزید مہلت طلب کی جس پر عدالت عالیہ نے صرف تین ہفتوں کے لئے آخری مہلت دی ہے۔،اس بات کی اطلاع آج ےہاں جمعیة علماءمہا راشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے دی ہے ۔ واضح رہے کہ پربھنی سے داعش سے تعلق کے الزام میں گرفتار کئے گئے ناصر یافعی و دیگرکے مقدمات کی شنوائی نچلی عدالتوں میں مناسب طور نہ ہونے، تفتیشی ایجنسیوںکی دھاندلےوںو دیگر اہم قانونی نکات پر مشتمل جمعیة علماءمہا راشٹر نے ایک پٹےشن سپریم کورٹ میں دائر کی ہے جس کی ڈائری نمبر 44098/2018 ناصر یافعی و دیگر بنام حکومت مہا راشٹر ہے، ان ملز مین پر اے ٹی ایس نے یو اے پی اے کے تحت معاملہ درج کیا تھا،جمعیة لےگل سکریٹری ایڈوکیٹ تہور خان پٹھان کے مطابق ملزمین پر جس قانون کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں وہ سینٹرل گورنمنٹ کے بنائے ہوئے ہیں، ایسے میں اس مقدمے کے تعلق Cognizance ( مقدمے کے بارے میں یہ فیصلہ لینا کہ واقعی یہ جرم وقوع پذیر ہوا ہے اور یہ قابلِ سماعت ہے یا نہیں) لینے کا اختیار بھی انہیں عدالتوں کو ہے جو یو اے پی اے قانون کے تحت مرکزی یا ریاستی حکومت کے ذریعے خصوصی طور ایسے مقدمات کے لئے قائم کئے گئے ہوں۔ بدقسمتی سے اس پورے معاملے میں ملزم کی گرفتاری کے بعد سے یو اے پی اے قانون کے تحت دی گئی واضح ہدایتوں کی خلاف ورزی کی گئی اور ملزمین کو ریمانڈ سے لے کر فردِ جرم عائد کئے جانے تک اس کورٹ میں پیش کیا جاتا رہا جسے اس مقدمے کی Cognizance لینے کا ہی اختیار نہیں ہے،اس کے با وجود اسے کئی مہےنوں سے التواءمیں ڈال دیا گیا تھا۔ دفاع کے مطابق معاملہ جب مر کزی تفتیشی اےجنسی این آئی اے کے سپرد کےا جا چکا ہے،بلکہ ایف آئی آرکا ری رجسٹریشن اور این آئی اے کے انوسٹی گیشن آفیسرمقرر ہونے کے بعد بھی مہا راشٹر اے ٹی ایس نے اپنے طور پرمجسٹریٹ کے کورٹ میں چارج شیٹ داخل کی ہے ،جس کی قانون کی نظر میںقطعا اہمیت نہیں ہے اور وہ کسی بھی صورت میں چارج شیٹ کے طور پر قبول نہیں کی جا سکتی ہے۔اہم ترین قانونی نکات پر مشتمل امور پر عدالت عالےہ میں بحث شروع ہو چکی ہے،جس سے یہ امید پیدا ہو گئی ہے کہ عنقریب اس مقدمہ کی کاروائی پایہ تکمیل تک پہونچ جائے گی۔ جمعیة علماءمہا راشٹر کی جا نب سے سپریم کورٹ میں اس مقدمہ کی پیروی ایڈوکےٹ سدہارتھ دوے ،ایڈوکےٹ فرخ رشید خان ،ایڈوکےٹ ابو بکر سباق سبحانی کر رہے ہیں۔ مو لانا حافظ محمد ندیم صدیقی ( صدر جمعیة علماءمہا راشٹر)نے کہا کہ نا صر یافعی کےس کی طرح ریاست میں دہشت گردی کے الزام میں جتنے مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا ہے ، ان میں سے بیشتر کے مقدمات میں اے ٹی ایس کی جانب سے اس طرح کی دھاندھلی ہوئی ہے ، اور اس دھاندھلی کی بنیاد پر لوگ برسوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں اگر ان تمام مقدمات کا باریک بینی سے مطالعہ کیا جائے تو اس میں اے ٹی ایس کی دھاندھلی بے نقاب ہوسکتی ہے ،اس لئے ہماری لےگل ٹےم اس معاملہ کو سپریم کورٹ لے گئی ہے تاکہ جلد از جلد یہ کےس حل ہو سکے اور ملز مین کو انصاف مل سکے ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading