پربھنی:17فروری۔ (ورق تازہ نیوز) گزشتہ پندرہ دنوں سے پربھنی تا مدکھیڑ ریلوے لائن پر چوڑاوا تا مرکھیل کے درمیان ڈبل ریلوے لائن کو جوڑنے اورسگنلوں کو نصب کرنے کا کام جاری تھا جس کی وجہہ سے اس لائن پر کچھ ریلوے گاڑیاں بند کردی گئیں تھی ۔ لیکن محکمہ ریلوے نے جانچ پڑتال کے بعد 15 فروری سے پربھنی تا مدکھیڑ‘دوہری ریلوے لائن پر ریل گاڑٰیاں چلانے کا کام شروع کیا ہے ۔جس سے مراٹھواڑہ کے مسافروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے ۔
اس لائن پر لمبی مسافت والی ایکسپریس گاڑیاں اور پیسنجر گاڑیاں 60کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ رہی ہیں۔ پربھنی ۔مدکھیڑ ریلوے لائن کو دوہری کرنے کی منظوری 2012-13 ریلوے وزارت نے دی تھی اوراس کام کےلئے 390 کروڑ روپے فنڈ منظور کیاتھا ۔ 2014 سے اس کام میں تیزی پیدا ہوئی۔
پورنا اور آسنا ندی پر دو بڑے پُل تعمیر کرنا تھے چنانچہ پچھلے پانچ سالوں سے ان پلوں کی تعمیر کا کام چل رہا تھا۔جوحال ہی میں مکمل ہوا ہے ۔14فروری کو ریلوے کے چیف سیکوریٹی کمشنر رام کرپال یادو نے حفاظتی جانچ پڑتال کی انھوں نے جانچ پڑتال کے دوران نئی لائن پر 108 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گاڑیاں دوڑائیں۔ حفاظتی نقطہ نظر سے پلوں کی جانچ پڑتال اور پٹریوں کے جوڑ کی جانچ پڑتال کی گئی اور مطمئن ہونے کے بعد رام کرپال یادو نے فی الفور اپنا ریمارک دیاکہ اب اس لائن پر ریل گاڑیاں دوڑائی جاسکتی ہیں
چنانچہ انکے احوال کے کچھ گھنٹوں بعد ہی ریلوے محکمہ نے گاڑیاں چلانا شروع کردیں ۔ناندیڑ ۔پنویل اور ناندیڑ ۔امرتسر سچکھنڈ ایکسپریس بھی چلنے لگی ہیں ۔جانچ پڑتال کے بعد سب سے پہلے ناندیڑ ۔پنویل ایکسپریس نئی پٹری پر دوڑی ۔گزشتہ دو دنوں سے بڑی تعداد میں ایکسپریس اور پیسنجر گاڑیاں چلنی لگی ہیں جس سے مسافروں کو راحت ملی ہے ۔خاص بات یہ ہے کہ ا س لائن کا کسی بھی طرح سے کوئی افتتاحی پروگرام منعقد نہیں کیا گیا ۔
اس اسکے بعد مراٹھواڑہ کے عوام پربھنی ۔منماڑ دوہری ریلوے کی تنصیب کا انتظار کرنے لگے ہیں ۔مراٹھواڑہ کے عوام کی جانب سے وزیر ریلوے کو اس طرح کامطالبہ پیش کیاگیا ہے ۔ لیکن اب تک اس پرکوئی کاروائی نہیں کی گئی ۔حالیہ ریل بجٹ میں بھی پربھنی ۔منماڑ دوہری لاین کا ذکرنہیں ہے جس کےلئے عوام کو آندولن اوراحتجاج کرناچاہئے ۔