پرانی دہلی: حوض قاضی میں کشیدگی کے بعد دیکھنے کو ملی ہندو-مسلم اتحاد کی دلچسپ تصویر

دہلی کے حوض قاضی علاقے میں گزشتہ دنوں دو لوگوں کے درمیان پارکنگ تنازعہ کے بعد ماحول نے فرقہ وارانہ رنگ اختیار کر لیا تھا۔ اب منگل کو اس علاقے میں مورتی کی از سر نو تنصیب کے بعد شوبھا یاترا نکالی گئی۔ اس دوران مسلم بھائیوں نے مثال پیش کی۔

تصویر سوشل میڈیا

شوبھا یاترا اجمیری بازار، لال کنواں، چاؤڑی بازار، کھاری باؤلی کے راستے سے ہو کر گزری۔ شوبھا یاترا کے دوران ہندو اور مسلم طبقہ کے لوگوں نے متحد ہو کر سماجی ہم آہنگی کا پیغام دیا۔ شوبھا یاترا کے دوران یہاں مسلم شہنائی بجا رہے تھے۔ اس دوران دہلی امن کمیٹی کے اراکین نے شوبھا یاترا کے راستے میں بھنڈارے کا بھی انعقاد کیا۔ پولس نے کسی بھی طرح کے ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے سیکورٹی کے سخت انتظام کیے تھے، لیکن ماحول انتہائی خوش کن رہا۔


دوسرے طبقہ کے لوگوں نے شوبھا یاترا نکال رہے لوگوں کا استقبال پھولوں کی بارش کرتے ہوئے کیا۔ اس کے علاوہ بھائی چارے کی مثال پیش کرتے ہوئے لوگوں نے پرساد بھی تقسیم کیا۔ دوسری جانب پولس پورے علاقے پر ڈرون کیمرے سے نظر رکھےہوئےتھی۔ پولس نے اس دوران 4 کلو میٹر کے دائرے میں 200 روف ٹاپ بنائے تھے۔ اس دوران 300 سی سی ٹی وی کیمروں سے گوشے گوشے کی نگرانی کی جا رہی تھی۔

واضح رہے کہ حوض قاضی علاقے میں گزشتہ دنوں دو لوگوں کے درمیان پارکنگ کو لے کر کہا سنی ہو گئی تھی جس کے بعد بھیڑ نے ایک مندر میں توڑ پھوڑ کی تھی۔ بعد ازاں علاقے میں کافی کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔ اس سے قبل جمعہ کو دہلی پولس کمشنر امول پٹنایک نے حوض قاضی میں مندر میں توڑ پھوڑ کے واقعہ کے بعد علاقے میں پیدا فرقہ وارانہ کشیدگی کے درمیان علاقے کا دورہ کیا اور حالات کا جائزہ لیا۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading