ممبئی 16 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) شیوسینا نے آج سابق پاکستانی کرکٹر شاہد آفریدی کے ریمارکس کی حمایت کی کہ ان کے ملک ( پاکستان ) کو کشمیر کی ضرورت نہیں ہے اور پارٹی نے کہا کہ تمام ہوشمند پاکستانی اسی خیال سے اتفاق کریں گے ۔ شیوسینا نے اپنے ترجمان سامنا میں ایک اداریہ میں کہا ہے کہ پاکستان کی حکومت اور فوجی سربراہ اپنے ملک پر حکومت کرنے کی بجائے ہندوستان کو نقصان پہونچانے پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ انہیں آزادی کے 70 سال بعد بھی بیرونی امداد حاصل کرنی پڑ رہی ہے ۔ واضح رہے کہ دو دن قبل ایک ویڈیو وائرل ہوا تھا جس میں شاہد آفریدی کو یہ کہتے ہوئے دیکھا گیا کہ ان کے خیال میں پاکستان کو کشمیر کی ضرورت نہیں ہے اور ہندوستان کو بھی کشمیر نہیں سونپا جانا چاہئے کشمیر کو ایک آزاد ملک بنادیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ انسانیت کو ہی زیادہ ترجیح دینی چاہئے ۔ اپنے ملک کے داخلی حالات پر تبصرہ کرتے ہو ئے شاہد آفریدی نے کہا تھا کہ پاکستان خود اپنے موجودہ چار صوبوں کو ہی سنبھالنے کے موقف میں نہیں ہے ۔ پاکستان میں داخلی حالات ابتر ہیں اور وہاں معاشی بحران ہے جبکہ فرقہ وارانہ کشیدگی بھی بڑھ گئی ہے ۔ آفریدی نے تاہم بعد میں اپنے بیان پر وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستانی میڈیا نے ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا تھا ۔ اب اپنے موقف میں تبدیلی پیدا کرتے ہوئے آفریدی کا کہنا تھا کہ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے ۔ آج شیوسینا کے اداریہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کی مدد کرتے ہوئے اور کرپشن کی وجہ سے غریب ہوگیا ہے ۔ اب اس کے بعد صرف گائے بیچنے اور گاڑیاں بیچنے کا واحد راستہ رہ گیا ہے ۔ اداریہ میں ادعا کیا گیا ہے کہ پاکستان اب معاشی طور پر ٹوٹنے کے قریب ہے اور اسے چین جیسے ممالک سے بھیک مانگنے پر ہی مجبور ہونا پڑا ہے جبکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے مدد کرنے سے انکار کردیا ہے ۔ شیوسینا کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان کو معاشی آکسیجن کی ضرورت ہے تاکہ معیشت چلتی رہے تو پھر کشمیر کا خیال کیسے رکھا جاسکتا ہے ؟ ۔ نہ صرف شاہد آفریدی بلکہ ہر صحیح العقل پاکستانی بھی اسی طرح کے خیالات کا حامل ہوسکتا ہے ۔ تاہم وہاں عام آدمی سے کون پوچھتا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ حکومت اور فوجی سربراہ ملک کے حالات کو بہتر بنانے کی بجائے ہندوستان کو نقصان پہونچانے پر زیادہ توجہ دیتے ہیں ۔