لکھنؤ: اترپردیش کے ضلع میرٹھ میں ایس ایس پی کے متنازع بیان کی تنقید کرتے ہوئے کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے کہا کہ برسراقتدار جماعت نے ملک کے آئینی اداروں میں بھی اتنی فرقہ وارانہ نفرت گھول دی ہے کہ اعلی افسران کو بھی اپنے آئینی عہدے کا کوئی پاس ولحاظ نہیں ہے۔
भारत का संविधान किसी भी नागरिक के साथ इस भाषा के प्रयोग की इजाजत नहीं देता और जब आप अहम पद पर बैठे अधिकारी हैं तब तो जिम्मेदारी और बढ़ जाती है।
भाजपा ने संस्थाओं में इस कदर साम्प्रदायिक जहर घोला है कि आज अफसरों को संविधान की कसम की कोई कद्र ही नहीं है pic.twitter.com/aR1L6bgSbG
— Priyanka Gandhi Vadra (@priyankagandhi) December 28, 2019
میرٹھ کے ایس ایس پی کی جانب سے کیمرے پر مظاہرین کو پاکستان جانے کی دھمکی دینے کی وائرل ویڈیو پر اپنے تبصرے میں ٹوئٹر پر لکھا ’’ہندوستان کا آئین کسی بھی شہری کے ساتھ اس طرح کی زبان استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے اور جب آپ اہم عہدے پر فائز افسر ہیں تو آپ کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے، بی جے پی نے اداروں میں اس قدر فرقہ واریت کا زہر گھول دیا ہے کہ آج افسروں کو آئین کے حلف کی کوئی قدر نہیں ہے‘‘۔ پرینکا گاندھی نے اپنے ٹوئٹ کے ساتھ ایس ایس پی کی وائر ویڈیو کو بھی پوسٹ کیا۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ 20 دسمبر کو شہریت (ترمیمی) قانون کے خلاف ہونے والے احتجاج میں تشدد کے بعد ایس ایس پی اکھلیش این سنگھ مظاہرین سے پاکستان چلے جاؤ کہتے دکھائی دے رہے ہیں۔ وائرل ویڈیو کے مطابق ایس ایس پی کہہ رہے کہ’’ کہاں جاؤ گے اس گلی کو ٹھیک کردوں گا‘‘۔
وہیں چوطرفہ تنقید کے بعد ایس ایس پی نے اپنی صفائی میں کہا کہ’’ ہم حالات کے جائزے کے لئے علاقے میں پہنچے تھے کہ اسی دوران کچھ شرپسند عناصر پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے دکھائی دئیے اس کے جواب میں میں نے ان کو کہا کہ کھاتے یہاں کا ہو اور گاتے پاکستان کا ہو۔ پاکستان چلے جاؤ۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
