پاکستان تشدد پر آمادہ! 100 پاک حامی قیدیوں کو وادیٔ کشمیر سے بھیجا گیا باہر

جموں و کشمیر کی جیلوں میں بند زیادہ تر پاکستانی حامی کئی کور گروپ کے دہشت گردوں اور علیحدگی پسند لیڈروں کو ریاست سے باہر دوسری ریاستوں کی جیلوں میں بھیجا گیا ہے۔ یہ قدم سیکورٹی کے لحاظ سے اٹھایا گیا ہے۔ خبروں کے مطابق جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ختم کیے جانے کے بعد یہ دہشت گرد اور علیحدگی پسند لیڈر جموں و کشمیر کی جیلوں کے اندر اور باہر تشدد آمیز احتجاجی مظاہرہ شروع کرنے والے تھے۔

خصوصی خفیہ جانکاری کے بعد 100 سے زیادہ ایسے قیدیوں کو سری نگر، کٹھوعہ (ہیرا نگر) اور جموں کی جیلوں سے اتر پردیش اور ہریانہ کی سنٹرل جیلوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ وادی میں ایسے مزید قیدیوں کی شناخت کی جا رہی ہے جنھیں حال ہی میں دو مرکز کے ماتحت ریاستوں میں تقسیم کیے گئے جموں و کشمیر سے باہر دوسری ریاستوں کی اعلیٰ سیکورٹی والی جیلوں میں بھیجا جائے گا۔

حکومت کے اعلیٰ ذرائع نے بتایا کہ سری نگر سے 70 قیدیوں، جموں سے 10 قیدیوں، کٹھوعہ سے 5 قیدیوں اور بقیہ وادی کی دیگر جیلوں میں قید پاک حامی قیدیوں کو اتر پردیش اور ہریانہ کی سنٹرل جیلوں میں بھیجا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل جموں و کشمیر حکومت نے 20 مزید علیحدگی پسندوں کو وادی سے اتر پردیش کے آگرہ بھیجا گیا تھا۔ کشمیر سے باہر بھیجے گئے ان لوگوں پر علیحدگی پسند گروپ کے سرگرم رکن ہونے کا الزام ہے۔ انھیں آگرہ واقع سنٹرل جیل میں رکھا گیا ہے۔ اس سے پہلے انتظامیہ نے 25 دیگر علیحدگی پسندوں کو جمعرات کو ہی کشمیر سے آگرہ منتقل کیا تھا۔ ان میں کشمیر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کے سربراہ میاں قیوم بھی شامل ہیں۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading