پاکستان اور افغانستان میں طالبان کی افواج کے مابین سرحد پر متعدد مقامات پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔طالبان کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ افغان سرزمین پر پاکستانی فوج کی حالیہ کارروائیوں کے ردعمل میں سرحد پار پاکستانی فوج پر بڑے پیمانے پر جوابی حملے کیے گئے ہیں۔
پاکستان میں عسکری ذرائع نے اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے افغان حملوں کا بھرپور جواب دینے اور متعدد چوکیاں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔افغانستان کی وزراتِ دفاع کی جانب سے جمعے کو پاکستان پر فضائی حدود کی خلاف ورزی اور کابل سمیت دو مقامات پر فضائی حملوں کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
طالبان کی وزراتِ دفاع کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کے بعد اگر صورتِحال مزید کشیدہ ہوتی ہے تو اس کے نتائج کی ذمہ داری پاکستانی فوج پر عائد ہو گی۔
طالبان کی وزارت دفاع نے کابل میں بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کی رات افغانستان کے مشرقی صوبے کنڑ، جنوب مشرقی خوست، پکتیا، پکتیکا اور جنوبی ہلمند میں ڈیورنڈ لائن پر پاکستانی فوجی چوکیوں پر مربوط حملے کیے گئے۔
عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان فورسز نے شام کو ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا اور اس کے بعد فریقین کے درمیان شدید لڑائی شروع ہوگئی۔
پاکستان میں عسکری ذرائع نے بھی افغانستان سے کیے گئے حملوں کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ افغان افواج نے انگور اڈہ، باجوڑ، کرم، دیر، چترال کے علاوہ بلوچستان میں بارام چاہ کے مقامات پر بِلا اشتعال فائرنگ کی۔
عسکری ذرائع کے مطابق اس فائرنگ کا پاکستانی فوج کی جانب سے ’بھرپور اور شدید جواب‘ دیا گیا اور کارروائی ابھی جاری ہے۔
پاکستان کے عسکری ذرائع کے مطابق اس فائرنگ کا پاکستانی فوج کی جانب سے ’بھرپور اور شدید جواب‘ دیا گیا اور کارروائی ابھی جاری ہے۔
عسکری ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کارروائی کے دوران متعدد افغان چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
پاکستان کے ضلع کرم میں سرحد سے چند کلومیٹر دور موجود ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی اردو کے عزیز اللہ خان کو بتایا کہ دونوں جانب سے بھاری اسلحے سے فائرنگ کی جا رہی ہے جس میں اب تک دو افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔
مقامی افراد کے مطابق افغانستان سے ضلع کرم پر تین اطراف سے حملے کیے گئے ہیں۔
کرم کے مرکزی شہر پاڑہ چنار میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر میر حسن جان نے بی بی سی کو بتایا کہ ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور تمام عملے کو حاضر ہونے کا کہا گیا ہے تاہم اب تک ان کے ہسپتال میں کسی زخمی کو نہیں لایا گیا۔