مسلسل دوسرے روز … غزہ کی شارع الرشید واپس آنے والے فلسطینیوں سے اُمڈ پڑی

غزہ میں شارع ہارون الرشید پر مسلسل دوسرے روز اُن بے گھر افراد کا ہجوم اُمڈ آیا جو اپنے شہر واپس لوٹ رہے ہیں۔

العربیہ کے نمائندے کے مطابق یہ سڑک جو جنوبی غزہ کو شمال سے ملاتی ہے، انتہائی بھیڑ کا منظر پیش کر رہی ہے اور یہی حال شارع صلاح الدین کا بھی ہے۔

نمائندے نے بتایا کہ متعدد خاندان جنوبی علاقوں سے پیدل سفر کرتے ہوئے شہرِ غزہ کی طرف روانہ ہوئے، جنھوں نے لگ بھگ تین ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ غزہ شہر کے زیادہ تر گھر اور علاقے ملبے میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ "علاقے میں زندگی کی کوئی سہولت باقی نہیں، نہ پانی ہے نہ بجلی اور ہر طرف ملبے کے ڈھیر پھیلے ہیں۔”

تازہ اندازوں کے مطابق تقریباً ڈھائی لاکھ فلسطینی تباہ شدہ شمالی غزہ کی طرف واپس لوٹ چکے ہیں۔ نمائندے نے یہ بھی بتایا کہ کئی لاشیں اب تک ملبے کے نیچے دبی ہوئی ہیں جن کی شناخت نہیں ہو سکی۔

العربیہ کو موصول خصوصی مناظر میں غزہ شہر کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی واضح دیکھی جا سکتی ہے، خاص طور پر تل الہوا، جبالیا اور الشجاعیہ کے محلّوں میں۔

ادھر انروا ایجنسی کے میڈیا مشیر عدنان ابو حسنہ نے العربیہ سے گفتگو میں تصدیق کی ہے کہ غزہ کے 80 فی صد علاقے مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔

غزہ کے شہری دفاع کے ترجمان محمود بصل نے کل شام بتایا کہ تقریباً دو لاکھ افراد شمالی علاقے کی طرف واپس آ گئے ہیں۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب اسرائیلی فوج نے جمعے کی دوپہر اعلان کیا کہ جنگ بندی نافذ ہو گئی ہے۔ اس کے بعد وہ اپنی افواج کو غزہ کے کئی علاقوں سے دوبارہ تعینات کر چکی ہے۔ یہ اقدام ان مذاکرات کے نتیجے میں کیا گیا جو مصر کے شہر شرم الشیخ میں ہوئے تھے۔

اسرائیلی فوج نے واضح کیا کہ اس نے غزہ کے بیشتر محلّوں سے انخلا کر لیا ہے تاہم الشجاعیہ کے علاقے میں موجود ہے۔ اس نے فلسطینیوں کو بیت حانون، بیت لاہیا (شمال میں) اور رفح و مشرقی خان یونس (جنوب میں) واپس آنے سے روک رکھا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading