پاکستانی سے وہاٹس ایپ چیٹ میں بالا کوٹ ہوائی حملے میں 292 دہشتگردوں کی ہلاکت کا دعویٰ: کیا ہے سچائی جانیئے؟

پوجا چودھری الٹ نیوز

ٹوئٹر یوزر شیکھر چہل نے مبینہ طور سے بالا کوٹ کے رہنے والے ایک پاکستانی کے ساتھ وہاٹس ایپ چیٹ، اس دعوے سے شیئر کیا که بھارتیہ فضائیہ کے حالیہ ہوائی حملے میں جیش محمد کے 292 دہشتگرد مارے گئے۔ چہل کو ٹوئٹر پر وزیراعظم نریندر مودی فولو کرتے ہیں۔

اس چیٹ میں، چہل کے ‘دوست’ نے کہا که انکی ماں بالا کوٹ میڈکل یونیورسٹی میں ڈین ہیں اور مارے گئے دہشتگردوں کے پوسٹ مارٹم کی جانچ کی ذمہ داری انہیں پر تھی۔

چہل نے یہ مبینہ چیٹ اپنے فیس بک پروفائل پر بھی شیئر کیا ہے۔

کوئی ‘بالا کوٹ میڈکل یونیورسٹی’ ہے ہی نہیں

آلٹ نیوز نے گوگل پر بالا کوٹ میڈکل یونیورسٹی کی کھوج کی تو سرچ انجن سے کوئی نام نہیں ملا۔ چہل نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے، یونیورسٹی سے متعلق ایک لنک ٹویٹ کیا تھا۔ لیکن اس لنک میں میڈکل کالج کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ کچھ یوزرس نے اسے جھوٹھا دعوی مانا۔

آلٹ نیوز نے بالا کوٹ میں موجود کسی میڈکل یونیورسٹی کی گوگل میپ میں تلاش کی تو گوگل میپ نے جس طرح آس پاس کے علاقوں کے یونیورسٹیوں کو دکھلایا، اس سے ایسا لگتا ہے که بالا کوٹ میں کوئی میڈکل کالج بھی نہیں ہے۔ قریبی یونیورسٹی، آزاد جموں اینڈ کشمیر میڈکل کالج ہے جو بالا کوٹ سے 40کلو میٹر دور واقع ہے۔

فضائیہ کے ذریعے ہوائی حملے میں مارے گئے لوگوں کی تعداد بتایا جانا ابھی باقی ہے۔حال کی ایک پریس بریفنگ میں ایئر وائس مارشل آرجی کے کپور نے کہا کی مارے گئے لوگوں کی تعداد طئے کرنا ابھی جلد بازی ہے۔ ایئر چیف مارشل بی ایس دھنوآ نے 4 مارچ کوکہاکه مارے گئے لوگوں کی گنتی کرنا فضائیہ کا کام نہیں ہے اور اس طرح کی معلومات سرکار دیتی ہے۔ دوسری اور، سرکار نے جو کیول ایک بیورا دیا ہے، وہیں مرکزی وزیر ایس ایس اہلووالیہ کابیان ہے که بالا کوٹ میں بھارتیہ فضائیہ کا حملہ ‘لوگوں کو مارنے’ کے ارادے سے نہیں، بلکہ یہ پیغام دینے کے لئے تھا که دشمن کی سرحد میں کافی اندر گھس کر حملہ کرنے میں بھارت اہل ہے۔

بھاجپا صدر امت شاہ کے دعووں والے بیان، که بالا کوٹ ہوائی حملے میں 250 دہشتگرد مارے گئے، کی حمایت کرنے والا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ حقیقت میں، وزیر دفاع نے خود کہا که بتائے جانے کے لئے “کوئی تعداد نہیں” ہے۔

وہاٹس ایپ چیٹ میں اردو سے متعلق عام غلطیاں

چہل کے ذریعے اپ لوڈ کئے گئے وہاٹس ایپ چیٹ میں اردو سے متعلق فاش غلطیاں ہیں.جو اسکے فرضی ہونے کا اشارہ دیتی ہیں۔ اس چیٹ میں کئی روزمرہ کے اردو الفاظ کا تلفظ غلط ہیں۔مثال کے طور پر، ‘نزدیکی (nazdiki)’ کو ‘نزدیکی (najdiki)’؛ ‘پریشان (pareshan)’ کو پریسان (paresan)’؛ ‘الحمداللہ (Alhamdulillah)’ کو ‘الامدیاہ (Allamuddiah)’؛ ‘تشریف (tashreef)’ کو ‘تسریف (tasreef)’ لکھا گیا ہے۔کچھ دوسرے الفاظ، جیسے ‘گھایلو (ghayalo)’ اور ‘آتنکواد (aantankvaad)’ ہندی کے الفاظ ہیں۔ پاکستان میں رہنے والا، جسکی مادری زبان اردو ہو، پہلے الفاظ کے لئے زخمی (zakhmi) اور بعد والے کے لئے ‘دہشتگردی (dehshatgardi)’ کا استعمال کریگا۔اسکے علاوہ، اس چیٹ میں کچھ جملے غیر ضروری ہیں اور ایسا لگتا ہے مانو اردو کے الفاظ جبراً بیچ جملے میں ڈال دیئے گئے۔“Par ye galat hai na loc cross krna۔۔khair allah fitrat kre (پر یہ غلط ہے نہ ایل او سی کراس کرنا۔۔ اللہ فطرت کرے)”-یہ ایسا ہی ایک پیغام ہے جو چہل کے ‘دوست’ نے سرحد پار سے بھیجا تھا۔ یہاں ‘فطرت (fitrat)’ لفظ، جس کا معنی عادت ہے، لاگو نہیں ہوتا۔ اس ‘دوست’ کا مطلب شائد ‘اللہ خیر/حفاظت کرے’ جیسا کچھ ہوگا۔

بالا کوٹ ہوائی حملے کے بعد، بڑے پیمانے پر فیک میسیج آن لائن نشر ہوتے ہوئے دیکھائی دے رہے ہیں جن میں کئی یوزرس جھوٹے ویڈیو اور تصویریں پوسٹ کرکے یہ ثابت کرنے میں لگے ہیں که ہوائی حملے سے پاکستان میں بڑا نقصان ہوا ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading