ایران کے پاسداران انقلاب گارڈز (آئی آر جی سی) نے امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے یو ایس ایس ابراہم لنکن کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق پاسداران انقلاب نے حملے میں امریکی بحری بیڑے کو ’غیر فعال‘ کر دیا ہے اور یہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعرات کو امریکی بحری بیڑے کو ایران کی سمندری حدود سے 340 کلو میٹر دُور بحیرہ عمان میں نشانہ بنایا گیا۔
بیان میں بحری بیڑے کی اہم تنصیبات بشمول ڈرون مخالف دفاعی نظام، ڈرون کے لیے ذخیرہ اور دیکھ بھال کے علاقے، سپورٹ آلات، اور فیول ٹینک کو درست میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ابراہم لنکن بدستور آپریشن ایپک فیوری میں حصہ لے رہا ہے اور سمندر سے اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
عمان میں ڈرون گرنے سے دو غیر ملکیوں کی ہلاکت
عمان کے سرکاری میڈیا کے مطابق ڈرون گرنے سے دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
عمان کی خبر رساں ایجنسی کو ایک سکیورٹی ذریعے نے بتایا کہ صحار کے الاواحی صنعتی علاقے میں ایک ڈرون گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں دو غیر ملکی شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
ایک دوسرا ڈرون بھی صحار کے ایک کھلے علاقے میں گر کر تباہ ہوا لیکن اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ عمان میں حکام دونوں واقعات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
اسرائیل کے تازہ حملوں کے بعد تہران میں دھماکوں کی آوازیں
اسرائیل نے ایرانی دارالحکومت تہران پر نئے حملوں کا آغاز کر دیا ہے۔ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں اسرائیل ڈیفنس فورسز نے کہا کہ اس نے ’ابھی تہران بھر میں ایرانی حکومت کے ’دہشت گردی‘ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر حملوں کی ایک لہر شروع کر دی ہے۔‘
یاد رہے کہ اس سے قبل اسرائیلی فوج نے ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل داغے جانے کی تصدیق کی تھی اور اس میں درجنوں افراد زخمی ہوئے تھے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق تہران کے مرکز میں ایک دھماکے کی آواز سنی گئی ہے جبکہ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فاطمی سٹریٹ کے قریب اور وزارت داخلہ کی عمارت کے ارد گرد زوردار دھماکے کی آواز سنی گئیں۔دوسری جانب تہران کے شمال اور مغرب میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔