ٹکٹ کسے بھی ملے مگر اتحاد قائم رہنا چاہئے

۔اورنگ آباد۔(روراں تبصرہ: فاروق احمد)جیسے جیسے اسمبلی انتخابات کے دن قریب آتے جارہے ہیں ویسے ویسے اورنگ آباد میں ’’بھاوی آمداروں‘‘ کی فہرست میں بھی روز افزو ں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ لیکن کچھ دنوں سے یہ سلسلہ تھوڑا تھما ہوا ہے ورنہ ہر دو یا تین دن میں ایک شخص اپنے چاہنے والے کو چاہے اسے صرف اپنی گلی میں ہی کوئی کیوں نہ جانتا پہچانتا ہوں اسکی تصویر کے ساتھ بھاو ی آمدار لکھ کر تصاویر شیئر کرنے میں ذرا بھی جھجک محسوس نہیں کررہے ہیں۔چلئے یہ بات صحیح ہے کہ ہمارے جمہوری ملک ہندوستان میں ہرفردہر وہ کام کرنے کی اجازت ہے جسے وہ قانون کے دائرے میں رہ کرانجام دے سکتا ہے۔ مگرانسان وہ کام کرے جس کا وہ لائق ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو الگ الگ صلاحیتوں اور وخوبیوں سے نوازا ہے وہ اپنے صلاحیتوں اور خوبیوں کو جانے پہچانے ایسے لوگوں سے اپنا ملنا جلنا قائم رکھے جو آپ کو صحیح رائے دیتا ہو آپ کی دنیا وآخرت کی بھلائی چاہتا ہوں۔ مگر یہاں تو معاملہ ہی الٹا ہے تھوڑی بہت سوشل ورکنگ کیا کردئے ۲ چار چاپلوس آزو بازو پال لئے بس وہ جو رائے دے اس کو آب حیات سمجھ کر پی لینے والے زبردستی کے لیڈران یہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ اب پورے ملک پر حکومت چلانے کے قابل ہوگئے ہیں جب کہ ان کی اپنے گھر میں کچھ نہیں چلتی۔

خیرمیں جس موضوع کی جانب آپ کی توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہمارا اپنا پیار اشہراورنگ آباد امن وشانتی کا گہوارا ہے یہاں ہم سب مل جل کر اتحاد واتفاق سے رہتے آئے ہیں اور رہیںگے۔لیکن جب سے مجلس اتحاد المسلمین نے یہاں قدم رکھا ہے تب سے ایک نئی اتحاد کی فضاء نے جنم لیا ہے جو اب بھی برقرار ہے اور اسے برقرار رکھنے کے لئے ہمیں اپنی طرف کچھ نہ کچھ کوشش کرنا ہوگا تھوڑا جھک جانا ہوگا تھوڑارک جانا ہوگازیادہ ماننا ہوگا تھوڑا منالینا ہوگا۔

یہ سب ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ گذشتہ میں کانگریس سمیت تمام سیاسی پارٹیوں نے صرف مسلمانوں کو ووٹ بن سمجھ کر رکھا تھا اور اب بھی وہی سمجھتے ہیں لیکن مجلس کے آنے کے بعد جو تبدیلی آئی ہے وہ کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ ایک ایم ایل اے اور ۲۵؍ کارپوریٹر اسمبلی اور کارپوریشن میں نعرہ تکبیر بلند کریںگے۔پھر یوں ہوا کہ وقت گزرنے کے ساتھ لوک سبھا الیکشن بھی قریب آگئے۔اور ہمارے اتحاد میں ایک نیا باب بہوجن ونچت اگھاڑی کی شکل میں ہوا۔گذشتہ حالات اور موجودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے تقریباً سبھی نے یہی کہا تھا کہ مجلس کا یہاں سے لوک سبھا الیکشن لڑنا مناسب نہیں ۔خوب شور شرابے نکڑوں پر چرچوں میں یہی چل رہا تھا کہ ایم آئی ایم اورنگ آباد سے لوک سبھا الیکشن لڑ کر اپنی رہی سہی ساکھ بھی ختم کردے گی مگر ہوتا وہی ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ہم شہریان اورنگ آباد نے دل وجان سے گذشتہ کی طرح خوب محنت کی اور وہ کر دکھایا جسے کبھی سوچنا بھی ناممکن سا نظر آتا تھا اور اللہ نے ایک تاریخی وشاندار جیت سے ہم کو نوازا۔مگر سب یہ تب ہی ممکن ہوپایا جب ہم نے آپس میں رنجشوں اور تلخیوں کے باوجود اتحاد کو ترجیح دی ایک ایسے قلعہ کو ڈھادیا جوگذشتہ ۲۰ سالوں سے شرپسندی کو فروغ دے رہا تھا۔اس تاریخی اتحاد نے تاریخی جیت سے جب نوازا تو سارے ملک میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہیں کہ ہمارے وزیراعظم مودی کی جیت سے زیادہ مجلس اتحاد المسلمین کی اورنگ آباد لوک سبھا میں تاریخی جیت کے چرچے تھے۔بس اسی اتحاد کو ہم نے ہمیشہ قائم رکھنا ہے۔مثل مشہور ہے کہ ایک اکیلا اور دو گیارہ، یعنی اگر دو لوگ مل کر ایکا کر لیں تو ان کی طاقت اکیلے فرد سے گیارہ گْنا ہو جاتی ہے اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتحاد و اتفاق میں کتنی طاقت پو شیدہ ہے۔یوں تو یہ ایک چھوٹا سا لفظ ہے مگر اتنا جامع ہے کہ اس میں ایک جہان پوشیدہ ہے۔ اس کی کئی مثالیں ہمیں اپنے ارد گرد ہی نظر آتی ہیں خود ہی د یکھئیے کہ بارش کے ایک ننھے سے قطرے کی کیا اہمیت ہے مگر جب یہ ہی قطرے مل کر سمندر کی شکل اختیار کر لیں تو اس کی طاقت کے آگے کوئی چیز بھی ٹہر نہیں سکتی۔

اب ملک کے حالات تیزی سے ہندوراشٹر کی طرف بڑھتے نظر آرہے ہیں ملک خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہا ہے۔یہودی اور اسرائیلی لابی کی آگ اب ہمارے گھر تک آگئی ہے۔ہماری اپنی حفاظت کے ساتھ ساتھ اپنے دین وایمان اور اسلام کی سربلندی کے لئے یہ شاندار اتحاد ہمیں ہر معاملہ میں قائم رکھنا ہوگا۔ تبھی ہم اپنی بقاء کا کچھ سوچ سکتے ہیں ورنہ
ایک ہوجائیں تو بن سکتے ہیں خورشید ومبیں
ورنہ ان بکھرے ہوئے تاروں سے کیا بات بنے
نااتفاقی اور باہمی عداوت قوموں کو زوال کی طرف لے جاتی ہے،قوم میں اگر اتحاد و اتفاق نہ ہو تو تمام قوتیں اور صلاحیتیں بے کار ہو جاتی ہیں۔اتحاد کی حرارت سخت سے سخت چیز کو موم کی طرح پگھلا دیتی ہے۔ اتحاد سے انسان کے اندر ایک خاص قسم کا تعمیری جذبہ پیدا ہوتا ہے جو دِلوں میں حوصلے اور ہمت کو بڑھاتا ہے۔اتحاد سے کمزوروں کی ہمت بڑھتی ہے اور سب یک زبان ہو کر ایک ہی جذبے کے تحت کام کرتے ہیں۔

اب کچھ مہینوں بعد اسمبلی انتخابات اور پھر کارپوریشن کے الیکشن ہونے جارہے ہیں جس کے لئے ہر کوئی اپنی قسمت آزمانا چاہے گا اور سیاسی گلیاروں میں ہر کوئی اب یہ سمجھ رہا ہے کہ وہ مجلس اتحاد المسلمین کے ٹکٹ سے الیکشن میں حصہ لے گا تو وہ ضرور جیت جائے گا ۔مگر وہ یہ نہیں سمجھ رہا کہ ہر ایک کی قسمت اور تقدیر سید امتیاز جلیل جیسی نہیں ہوتی۔اور پھر دعائیں سونے پہ سہاگہ کا کام کرتی ہیں۔ہمارا شہر تین اسمبلی حلقوں میں تقسیم کیا ہوا ہے ۔مشرقی حلقہ‘وسطی حلقہ‘ اور مغربی حلقہ۔ان تین حلقوں میں سے سید امتیاز جلیل وسطی حلقہ سے اسمبلی انتخاب میں جیت کر آئے تھے۔جو ہم سب کے اتحاد کے بغیر ممکن نہیں تھا۔مشرقی حلقہ سے ڈاکٹر عبدالغفار قادری کا الیکشن میں کھڑے رہنا تقریباً طئے ہے۔مغربی حلقہ میں بہوجن ونچت اگھاڑی کے ارون بورڈے یاامیت بھوئی گڑدونوں متوقع امیدواروںمیں سے کسی ایک کا میدان میں آنا ضروری ہے ۔ورنہ کسی مجلس امیدوار کے حق میں ٹکٹ کا فیصلہ کرنا اس اتحاد کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اب رہامعاملہ وسطی حلقہ کاجہاں سے مجلس کے ہی بہت سارے کارپوریٹر،ورکرس اورذمہ داران الیکشن میں کھڑے ہونا چاہتے ہیں۔خصوصاً جن پر سب کی نظر ہے ان میں جاوید قریشی‘ایڈوکیٹ خضر پٹیل‘ڈاکٹر سرتاج پٹھان،عتیق موتی والاموجود ہیںاور فی الحال حد تو یہ ہے کہ بہت سارے للو پنجو جو کانگریس اور دیگر فرقہ پرست پارٹیوں میں اپنی نمائندگی کرتے تھے وہ اب مجلس میں شمولیت اختیار کررہے ہیں اورممبر آف پارلیمنٹ سید امتیاز جلیل کے ساتھ تصاویر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرکے یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان کا ٹکٹ وسطی حلقہ سے پکا ہوگیا ہے۔ اور کچھ یہ غلط فہمی میں ہے کہ وہ پیسوں کے دم پر وسطی حلقے سے مجلس کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ لیںگے۔لیکن انہیں پتہ ہونا چاہئے کہ عوام سب کچھ جانتی ہے اور کسے ووٹ دینا ہے اس کا بھی انہیں پاس ولحاظ ہے۔ ہمیں اور بھاوی آمداروں کوسمجھنا چاہئے کہ قابلیت بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ اب چندر کانت کھیرے کو ہی دیکھ لیجئے پچھلے ۲۰؍ سالوں میں پارلیمنٹ میں اورنگ آباد کا نام تک نہیں لیاگیا اور نہ ہی یہاں کے مسائل پر کبھی کوئی لب کشائی کی گئی۔بس جئے مہاراشٹر جئے ہند سے کام نہیں چلتا۔ خیرلہذا زیادہ تفصیل میں نہ جاتے ہوئے میں تمام ’’بھاوی آمداروں سے سیاسی ہاتھ جوڑ کرگذارش کرتاہوں کہ آپ اپنی قابلیت ‘صلاحیت اورسماج میں کئے گئے کاموں کو ذمہ داران تک پہنچائے پھر اگر وہ آپ کے حق میں کوئی مناسب فیصلہ کرے تو قبول کریں ورنہ خاموش رہیں۔لیکن قابل ذکر بات یہ ہے کہ سیاست ایک ایسا جوا جو دونوں صورتوں میں آپ کو خاموش نہیں رہنے دیتا۔لیکن وقت اور حالات کو دیکھتے ہوئے میں صرف عوام سے ہی اتحاد کی اپیل نہیں کرتا ہوں بلکہ بھاوی آمداروں اور لیڈران سے بھی اتحاد واتفاق کی اپیل کرتا ہوں کہ وہ ہر فیصلے کو قبول کریں اور اتحاد کو قائم ودائم رکھیں۔الیکشن آتے جاتے رہیں گے لیکن ہم اپنے اتحاد واتفاق کو کبھی ٹوٹنے نہیں دیںگے مگر ہمارا ملک آج کل جس دور سے گْزر رہا ہے اْس میں اس اتحاد کی کی اہمیت کئی گْنا بڑھ جاتی ہے۔جس طرح ماب لنچنگ اور عصمت دری کے واقعات روزآنہ پیش آرہے ہیں اس کو دیکھ لگتا ہے کہ ہمارے ملک کو صرف بیرونی نہیں اندرونی خطرات بھی لاحق ہیں۔بیرونی قوتیں فائدہ جب ہی اْٹھاتی ہیں جب ہم اندرونی طور پر خلفشار کا شکار ہوتے ہیں ، ایک اللہ ، ایک رسول اور ایک دین کو ماننے والے ملک میں ہی کئی فرقے ہیں۔ اور ہر کوئی صرف اپنے آپ کو ہی بہتر اور برتر ثابت کرنے کی دوڑ میں لگا ہوا ہے۔ہر طرف افرا تفری اور نفسا نفسی کا عالم ہے اور کوشش میں لگا ہے کہ کس طرح دوسرے کے حلق پر پیر رکھ کر آگے بڑھا جا سکتا ہے اس کا نتیجہ یہ ہو رہا ہے کہ ہم بحیثیت قوم بے توقیر ہوتے چلے جارہے ہیں دیگر قومیں ہم پر بھروسہ نہیں کرتیں اور اس کی فکر نہ لوگوں کو ہے اور نہ ہی ہمارے حکمرانوں کو، جب ہم اپنے ہی ملک میں لڑنے جھگڑنے میں مصروف ہیں تو کیا ہماری حالت کو دیکھ کر ہمارا تمسخر نہیں اڑایا جاتا ہو گا ؟ یہ درست ہے کہ ہر ملک میں کچھ نہ کچھ مسائل ہوتے ہیں کوئی بھی سو فیصد درست نہیں ہوتا مگر اْس کو بہترین بنانے والے بھی تو قوم کے افراد ہی ہوتے ہیں ؟کوئی باہر سے آکر اْس کو بہتر نہیں بناتا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading